روزے کے سائنسی فوائد ! روزے کے روحانی ظاہری اور باطنی فوائد

چند سال پہلے یوشی نوری نامی جاپانی سائنس دان کو کینسر کے علاج میں ایک انقلابی پیش رفت پر نوبل پرائز دیا گیا۔ دِل چسپ بات یہ ہے کہ اس سائنس دان نے کینسر کے علاج کے لیے کوئی نئی دوا ایجاد نہیں کی، بلکہ ایک ایسی دریافت کی، جس سے کینسر کو روکا جاسکتا ہے اور اگر مرض لاحق ہو، تو اس کی بڑھوتری میں بہت حد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ یوشی نوری، ٹوکیو کی یونی ورسٹی آف ٹیکنالوجی میں پروفیسر ہیں۔ اُن کی دریافت کو سیدھے سادے الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ جب انسان زیادہ دیر تک بھوکا رہتا یا فاقہ کرتا ہے، تو جسم کے خلیوں میں پُراسرار تبدیلیاں رُونما ہونے لگتی ہیں ۔ جب ان خلیوں کو باہر سے کوئی خوراک نہیں ملتی، تو وہ خود ہی ایسے خلیوں کو کھانا شروع کردیتے ہیں، جو گلے سڑے، خراب اور جسم کے لیے خطرے کا باعث ہوں۔ اسے عام فہم زبان میں سیلف ایٹنگ کہتے ہیں اور سائنسی اصطلاح میں یہ عمل آٹو فیجی کہلاتا ہے۔

جاپانی سائنس دان کے مطابق، اگر انسان سال میں ایک مرتبہ 20سے27 دن تک 12سے 16گھنٹے بھوکا رہے، تو کینسر کا موجب بننے والے، گلے سڑے اور ناکارہ خلیے خود بہ خود ختم ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح صحت مند انسانوں میں کینسر کے امکانات، جب کہ کینسر کے مریضوں میں مرض کی رفتار کم ہوجاتی ہے۔ دراصل یہ کوئی نیا نظریہ نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل بیلجیئم کے ایک سائنس دان کو بھی 1974ء میں اسی شعبے میں انعام مل چُکا ہے، لیکن یوشی نوری کا کارنامہ یہ ہے کہ اُنہوں نے اس موضوع پر لیبارٹریز میں ٹھوس شواہد اکٹھے کیے اور 3ہزار سے زائد تحقیقی مقالے لکھے۔ اُنہوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ جسم کا یہ ناکارہ سیلز کا کاٹھ کباڑ، کس طرح اور کیسے ٹھکانے لگتا ہے اور نئے سیلز کیسے وجود میں آتے ہیں۔اگرچہ جاپانی سائنس دان کی اس دریافت نے طب کی دنیا میں ایک نئی سمت متعیّن کردی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس نظریے نے دنیا بھر کے ان مذاہب کے ماننے والوں میں بھی خوش گوار سی ہل چل پیدا کی ہے، جو صدیوں سے فاسٹنگ کرتے یا روزے رکھتے چلے آرہے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب ہو، روزہ یا فاسٹنگ اس کی تعلیمات کا ایک لازمی جزو ہے اور عہدِ جدید کی سائنسی تحقیق اور پیچیدہ تجربات نے اس کی افادیت پر مُہرِ تصدیق ثبت کردی ہے، تو ان کا اظہارِ مسرّت ایک فطری بات تھی، بالخصوص اسلامی دنیا میں اس ریسرچ کا خوش دِلی سے خیرمقدم کیا گیا، جو 14سو سال سے ماہِ صیام جیسی نعمت سے سرفراز ہوتے چلے آرہے ہیں۔

جاپانی سائنس دان کی یہ تحقیق کہ سال میں 20 سے26،27 دن تک فاسٹنگ (روزے رکھنا) بہت سی بیماریوں سے فطری شفایابی کا ایک بہترین وسیلہ ہے، اسلام کی زرّیں تعلیمات کی افادیت اور حقّانیت کی بہترین مثال ہے۔ دنیا بھر میں مخصوص وقت کے لیے کھانے پینے سے احتراز کو بالعموم فاسٹنگ سے تعبیر کیا جاتا ہے، جب کہ اسلامی تعلیمات میں یہروزے سے موسوم ہے۔فاسٹنگ یا کھانے پینے سے رضاکارانہ احتراز تاریخِ انسانی میں شفایابی یا روحانیت کے حصول کا قدیم ترین وسیلہ اور دنیا کے ہر مذہب اور کلچر کا جزو ہے۔ یونانی فلاسفر، بقراط کو جدید طب کا باوا آدم کہا جاتا ہے۔اُس کے علاج کا ایک اہم حصّہ فاسٹنگ اور سیب کا سرکہ تھا۔ وہ ایک جگہ لکھتا ہےبیماری کے عالم میں کھانا، بیماری بڑھانے کے مترادف ہے۔ افلاطون اور ارسطو بھی فاسٹنگ کے قائل تھے۔ اُن کے خیال میں فاسٹنگ ایک ایسا معالج ہے، جو ہر شخص کے جسم کے اندر موجود ہے۔ اکثر جانور جب بیمار ہوتے ہیں، تو وہ کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ یونانی فلاسفر یہ بھی کہتے تھے کہ ذرا سوچیں !مقوّی غذائیں اور پیٹ بھر کھانا، آپ کو چاق چوبند کرتا ہے یا اس سے سُستی اور کاہلی طاری ہونے لگتی ہے۔یونانی فلسفیوں کے بعد آنے والے طبّی ماہرین نے کھانے سے محرومی سٹار ویشن اور فاسٹنگ میں فرق بھی بیان کردیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ خوراک اور غذا سے محرومی میں اگر ایسے عوامل شامل ہوں، جن پر آپ کا بس نہ چلتا ہو، تو یہ خوراک سے محرومی کے زمرے میں آئے گا، جیسا کہ قحط زدہ مُلکوں میں ہوتا ہے، لیکن فاسٹنگ یہ ہے کہ آپ دانستہ طور پر، اپنی مرضی سے کچھ دیر کے لیے اپنے آپ کو کھانے سے محروم رکھتے ہیں اور آپ کو یہ بھی علم ہوتا ہے کہ اس فاسٹ کو توڑنا کب ہے۔ رات کو8، 9گھنٹے کے تعطّل کے بعد صبح کا ناشتا، تمام دنیا میں بریک فاسٹ کے نام سے موسوم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فاسٹنگ اوراسٹارویشن کے اس بنیادی فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اسی طرح ڈائٹنگ بھی مختلف ہے اور فاسٹنگ کے زمرے میں نہیں آتی، کیوں کہ ڈائٹنگ میں بعض ادویہ اور کیمیکلز بھی استعمال کروائے جاتے ہیں، جو نقصان دہ ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین