رمضان آنے سے پہلے پہلے یہ خاص دعا اور کاص عمل ضرور کر لینا

اگر تمہیں تین نشانیاں اپنی زندگیاں نظر آئیں دل بہت سخت ہو گیا ہے جسم بہت لاغری کا شکار ہو گیا ہے رزق کم ہوتا جارہا ہے تو یقین کر لینا لگتا ہے کہ تم نے ایسی باتیں کی جن کا کوئی فائدہ نہیں تھا کثرت سے دعا کاا ہتمام کیجئے رمضان سے پہلے بھی اوررمضان میں بھی یہ ہونا ہی چاہئے ۔حدیث میں آتا ہے کہ تین دعائیں قبول کی جاتیں ہیں

روزے دار کی دعا مظلوم کی آہ و پکار اور مسافر کی دعا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا تین لوگوں کی دعائیں تو رد ہی نہیں ہوتی روزے دار جب تک وہ روزہ افطار نہ کر لے عادل بادشاہ اور مظلوم حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتی تھی یہ کیسی عبادت ہے کہ میں سورہی ہوتی ہوں کہ میں سورہی ہوتی ہوں پھر بھی اللہ عبادت لکھتے ہیں

روزے دار کا دن رات عبادت ہے یعنی دعا کی قبول کیا جاتا ہے روزے میں اور افطاری کے وقت دن کو روزہ رکھتا ہے صبر کرتا ہے اور رات کو کھاتا ہے اور شکر کرتا ہے رمضان المبارک میں جو آپ نے دعائیں کرنی ہیں

ان کو یاد کیجئے لیکن یادرکھئے ثمر آور رمضان کو وہ بنا سکتا ہے جو روزہ صرف کھانے پینے کا نہیں رکھتا تمہاری آنکھ کا بھی روزہ ہونا چاہئے تمہارے کانوں کا بھی روزہ ہونا چاہئے آنکھوں کا بھی روزہ ہونا چاہئے دل کا بھی روزہ ہونا چاہئے غلط بات نہ سنے غلط بات نہ دیکھے نہ سوچے نہ کہے اور اللہ نے اگر حلال کھانا منع کر دیا ہے روزے میں تو حرام چیزیں کیسے جائز ہو سکتی ہیں غیبت نہ کیجئے چغلی نہ کیجئے کسی کے بارے میں بغض نہ رکھیں عصبیت اور تعصب کا شکار نہ ہوں خالص ربانی بن کر رمضان کے روزے رکھئے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کتاب میں لکھا اور وہ اپنی ذات کے متعلق لکھتا ہے جو اُس کے پاس عرش پر رکھی ہوئی ہے کہ میرے غضب پر میری رحمت غالب ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ کر رکھ لیا: بے شک میری رحمت میرے غضب سے بڑھ گئی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو اپنے دست قدرت سے اپنی ذات کے لئے لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے وافر مال عطا فرمایا تھا۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنے بیٹوں سے کہنے لگا: میں تمہارا کیسا باپ ہوں؟ انہوں نے جواب دیا، آپ بہت اچھے باپ ہیں۔ کہنے لگا: میں نے نیکی کا کبھی کوئی کام نہیں کیا جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر مجھے پیس ڈالنا اور جس روز تیز ہوا چلے تو میری راکھ کو بھی اُڑا دینا۔

اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اُس کے ذرات کو جمع کر کے دریافت فرمایا: تجھے اِس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اُس نے جواب دیا: تیرے خوف نے۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے اپنی آغوشِ رحمت میں لے لیا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین