حضرت علی ؓ نے فر ما یا عزت چاہتے ہو تو

دس ایسی باتیں ہیں جو پوری زندگی کا نچوڑ ہیں اگر ان پر عمل کیا جا ئے تو انشاء اللہ زندگی بدل جا ئے گی۔ شرم کی کشش حسن سے زیادہ ہو تی ہے رو نا دل کو روشن کر تا ہے ماں باپ کی خدمت دونوں جہانوں میں عزت ہے اولاد کے لیے جو چیز گھر لاؤ پہلے بیٹی کو ، پھر بیٹے کو دو۔ دنیا میں سب سے خطر نا ک جوانی کا غصہ ہے۔ کسی کا دل نہ د ُکھا ؤ کیونکہ تم بھی دل رکھتے ہو گفتگو چاندی ہے اور خاموشی سو نا کسی سے ملتے وقت مسکرا دینا صدقہ ہے۔ گ ن ا ہ سے بچنا سب سے بڑی نیکی ہے ہمیشہ سچ بو لو تا کہ قسم کھانے کی ضرورت نہ پڑے۔ انسان کی قلبی و ذہنی پا کیز گی کے ذریعہ ہی انسان کے اندر مثبت تبدیلی ممکن ہے لیکن عام طور پر ظاہری شخصیت کو بہتر بنانے پر توجہ مبذول کی جا نے لگی ہے۔

جو کہ انسان کے منفی رجحانات اور اس کے اندر تیزی سے بڑھتی جا رہی گیر واضح سونچ اسے نا کام بنا رہی ہے مثبت فکر کے حامل نوجوان ہی معاشرتی تبدیلی کے نقیب ثابت ہو سکتے ہیں اور مثبت فکر کی تعلیم مذہب اسلام نے دی ہے نو جوانوں میں فکر کا ٹکراؤ ان کی ذہنی نشو و نما میں رکا وٹ بننے لگا ہے جسے پاک کر تے ہوئے انہیں دینی و دنیاوی اعتبار سے کا میاب بنا نا نا گزیر ہے۔ انسان جسم قلب اور دماغ سے مکمل ہو تا ہے اور جب تک پا کیزہ قلب دماغ پر کنٹرول کا متحمل نہیں ہو تا انسان کی جسمانی شخصیت و اخلاقیات میں نکھار پیدا ہو نا ممکن نہیں ہے شخصیت سازی دراسل انسان کے قلب کو پا کیزہ بنانے اور اسے رجو ع الی اللہ کرنے کا نا م ہے۔

کیونکہ اللہ رب العزت نے انسان کو زمین پر اپنا خلف بنا یا ہے تو انسان ان پیمانوں پر پورا ترنے کے لیے اس کے احکامات کو ماننے کے ساتھ ساتھ اپنی شخصیت کو اس طرح تیار کر ے کہ اس سے نہ صرف دنیا خوش ہو بلکہ اللہ بھی راضی ہو جا ئے۔ ارے معاشرے میں مذہبی شخصیات کا نام آتے ہی لوگ کوشش کرتے ہیں کہ یا تو محفل سے اٹھ جائیں یا گفتگو کا رخ موڑ دیں۔ اس میں ان کا پوری طرح قصور بھی نہیں ہے کہ جس معاشرے میں مذہب کہ نام پر انتشار پھیلایا جائے وہاں کہ لوگ، خاص طور پہ نوجوان نسل کا یہ ردعمل، اور ان کا مذہب اور مذہبی اشخاص سے متعلق گفتگو سے دور ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیںمام علیؑ کہ اس قول نے اس گتھی کو سلجھا دیا ہے ۔

کہ ظلم چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، کسی بے گناہ کا قتل ہو یا کسی کے حق کا چھیننا، ہمارے دل ہمیشہ مظلوم کہ ساتھ رہیں اور ہماری نفرت فقط ظالم کے لئے۔ یہ قول اس بات پر بھی روشنی ڈالتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ ظلم نہیں کرتا تو اس کی بات کو برداشت کر لیا جائے۔ کیونکہ ضروری نہیں کہ جو مظلوم ہو اس سے کوئی خطا سرزد نہ ہو۔ میرے لئے یہ قول زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ مظلوم کے لئے بلا جھجک آواز اٹھانا مجھے اس جملے نے سکھایا۔ بہت بار اس کے باعث مجھے نفرتوں اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن روح مطمئن رہی اور ذہن آزاد محسوس ہوا۔