یہ وظیفہ جب ایک صحابی نے پڑھا تو وہ دو دن کے اندر اتنا مالدار ہو گیا کہ ۔۔؟

آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عمل بتلایا ہے ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آکر کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مجھے اس قدر غربت اور فقر نے گھیر لیا ہے میں جو بھی کام کرتا ہوں فیل ہوجاتا ہوں تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم دکان میں داخل ہو اور دروازہ کھولو تو وہاں کہا کرو السلام علیکم والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قل ھواللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد یہ ایک دفعہ پڑھ لیا کرو گھر میں جاؤ دکان میں جاؤ جب بند ہو جائے پہلی دفعہ داخل ہو تو یہ پڑھ لیا کرو صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے جب عمل کیا چند دن گزرے کہ میں تو اپنے علاقے کا سب سے بڑا امیر کبیر بن گیا میں مٹی میں بھی ہاتھ ڈالتاتھا وہ بھی سونا ہو جاتی تھی یہ مشکل ہے کہ آدمی قرآن حدیث کے وظیفے نہیں پڑھتا کوئی مکار پیر بتلا دے کہ ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر قبرستان میں یہ وظیفہ کرنا ہے اور آنکھیں بھی بند رکھنی ہیں تمہیں بلائیں نظر آئیں گے ڈرنا بھی نہیں ہے

میں جو تمہارے ساتھ ہوں کسی کو کھڑا کر دو بلائیں اس کو ویسے بھی نظر آئیں گی قبرستان ہو ٹانگ ایک ہو چکر آئے گا بلائیں نظر نہیں آئے گی تو کیا ہوگا اس میں کونسے پیر کی پیری ہے ۔امام محمد بن سیرین و خِلاس دونوں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی سو رحمتیں ہیں جن میں سے اس نے ایک رحمت کو اہلِ دنیا کے درمیان تقسیم کردیا پس وہ اُن کی اموات تک انہیں اپنے احاطہ میں لئے رہے گی جبکہ ننانوے رحمتوں کو اس نے اپنے اولیاء کے لئے محفوظ کر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اہلِ دنیا پر تقسیم کی جانے والی رحمت اور باقی ننانوے کو اپنے قبضہ میں لینے والا ہے۔ پھر قیامت کے دن وہ اُن سو رحمتوں کی اپنے اولیاء پر تکمیل کرے گا۔حضرت معاویہ بن حَیدَہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتوں کو تخلیق کیا،

پس ایک رحمت مخلوق کے درمیان تقسیم کر دی جس کے باعث وہ باہم رحم کرتے ہیں جبکہ ننانوے رحمتوں کو اپنے اولیاء (کی شفاعت) کے لئے محفوظ کر لیا۔حضرت حسن بصری فرماتے ہیں: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سو رحمتوں کا مالک ہے، اُس نے (اُن میں سے) ایک رحمت کو جمیع اہلِ زمین کے درمیان تقسیم کر دیا جو اُن کی اموات تک انہیں اپنے احاطہ میں لئے رہے گی جبکہ اس نے باقی ننانوے رحمتوں کو اپنے اولیاء کے لئے ذخیرہ کر لیا۔ اللہ تعالیٰ اہلِ دنیا پر تقسیم ہونے والی رحمت اور (باقی) ننانوے رحمتوں کو اپنے قبضے میں کرنے والا ہے پھر وہ قیامت کے دن اپنے اولیاء پر اِن سو رحمتوں کی تکمیل کرے گا (اور ان رحمتوں کے باعث انہیں اعلیٰ و ارفع مقامات اور حقِ شفاعت سے نوازے گا)۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین