صحابی رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بتایا ہوا مختصر وظیفہ کر لیں

یہ تحریر رزق میں کشادگی کے حوالے سے ہے یہ اس لئے بھی خاص ہے کہ کیونکہ اس کی روایت ہمارے پیارے آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی سے ہے لہٰذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ روزی مال و دولت میں اضافہ ہو تو بغیر کسی شبہ کے اس وظیفہ کو کریں۔ رزق کی کشادگی کس طرح ممکن ہے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور خالق کائنات کے اس حوالے سے کیا فرمودات ہیں؟رزق اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمت ہے جس کی تقسیم کا اختیار اس نے اپنے پاس رکھا ہے اللہ کے ارشاد کا مفہوم ہے اللہ تعالیٰ تو خود ہی رازق ہے مستحکم قوت والا ہے ۔ ہم لوگ رزق صرف کھانے کی چیزوں کو کہتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ رزق اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہر نعمت کو کہتے ہیں چاہے وہ صحت ہو علم ہو اخلاق ہو عمل ہو نیک بیوی اور اولاد ہو مال ہو دلی اطمینان ہو یا پھر امن کی نعمت ہو اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ہر نعمت پر رزق کا اطلاق ہوتا ہے اللہ کے ارشاد کا مفہوم ہے اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے

لگو تو انہیں شمار نہیں کرسکتے یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ رزق کی تقسیم میں لوگ مختلف ہیں بعض کو اپنی حکمت بالغہ کی وجہ سے زیادہ اور بعض کو کم دیتا ہے اللہ کا ارشاد گرامی ہے اور اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں کو رزق کے معاملے میں دوسروں پر برتری دے رکھی ہے دنیوی زندگی میں ان کے روزی کے ذرائع بھی ہم نے ان کے درمیان تقسیم کر ر کھے ہیں اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد بہت سارے مسائل حل ہوجاتے ہیں نہ کسی سے حسد ہوتا نہ دشمنی کے آثار نمایا ں ہوتے ہیں نہ اپنے آپ کو زیادہ مشقت میں مبتلا کرنا پڑتا ہے اور نہ رزق کو تلاش کرنے میں غلط راستوں کو اختیار کرنا پڑتا ہے حلال طریقوں سے رزق طلب کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی طاعت ہے اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے یہاں عقائد بھی دین ہیں شعائر اسلام یعنی نماز روزہ زکوۃ حج بھی دیں ہیں معاملات بھی دین کا حصہ ہیں اور معاشرت بھی دین میں شامل ہے اور اخلاقیات بھی دین کا ایک اہم جزو ہے لہٰذا رزق حلال کمانا بھی دین ہے

حلال رزق کمانا تقدیر کے خلاف نہیں ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد کا مفہوم ہے ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک حسین نوجوان وہاں سے گزرا ہم نے آپس میں کہا کہ کاش یہ اپنی جوانی کو اللہ کے راستے میں لگا دے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جب ہماری یہ بات سنی تو فرمانے لگے جو اپنے والدین کی خدمت میں لگا ہوا ہے و ہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے جو اپنے اہل و عیال کے لئے کمانے کی کوشش کررہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے اور جو اپنے اوپر خرچ کرنے کے لئے محنت کررہا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے

لہٰذا جو روزی کمانے کے لئے اپنے گھر سے کسی عمل ڈیوٹی یا تجارت کی غرض سے نکلا وہ اللہ کے راستے میں ہے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روزی کمانے کے لئے بکریاں چرائیں کھیتی باڑی اور مشقت کی ۔عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں پر کسی قسم کی تنگی پیش آتی تو ان کو نماز پڑھنے کا حکم فرمایا کرتے تھے اور یہ آیت تلاوت فرماتے: وَاْمُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلاَةِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا لاَ نَسْاَلُکَ رِزْقًا․ الآیة۔ ترجمہ: اپنے گھروالوں کو نماز کا حکم کرتے رہیے اور خود بھی اس کا اہتمام کیجیے ہم آپ سے روزی کموانانہیں چاہتے، روزی تو آپ کو ہم دیں گے۔ اس لیے آپ خود بھی اور تمام گھروالے نماز کا اہتمام کریں اور کسی بھی نماز کے بعد اول و آخر گیارہ گیارہ بار درود شریف پڑھ کر ۷۰/ مرتبہ اس دعا کو پڑھ لیا کریں ان شاء اللہ رزق کی تنگی دور ہوجائے گی۔ دعا یہ ہے: اللّٰھُمَّ أَکْفِنِيْ بِحَلاَلِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِيْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ․اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین