اگر یہ عمل کرنا چھوڑ دیا تو اللہ دنیا میں تمہارا رزق تنگ کر دے گا

گمراہی میں جو انسان جا چکا ہے اس کا علاج کیا ہے ؟ صرف تین علاج پیش کررہے ہیں ۔ ہر قسم کی گمراہیوں سے بچنے کا سب سے آسان سب سے خوبصورت اور سب سے بڑا علاج یہ ہے کہ اللہ کے قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑھئے ہر قسم کی گمراہیوں سے بچ جاؤ گے اللہ ذوالجلال قرآن میں فرماتے ہیں قال اھبطا منھا جمیعا بعضکم لبعض عدو فاما یاتینکم منی ھدی فمن التبع ھدای فلا یضل ولا یشقی ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرھم یوم القیامۃ اعمیٰ قال رب لم حشرتنی اعمیٰ وقد کنت بصیرا قال کذٰ لک اتتک آیاتنا فنسیتھا وکذالک الیوم تنسیٰ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت جو قرآن ہے اس کو جو لے لیتا ہے لا یضل ولا یشقی کبھی بھی زندگی میں نہ یہ گمراہ ہو گا نہ بد بخت ہو گا اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ایک بات بھی بیان کردی ومن اعرض عن ذکری جس نے اس میرے ذکر سے منہ پھیر لیا قرآن سے منہ پھیر لیا فان لہ معیشۃ ضنکا میں اس کی معیشت کو تنگ کر دوں گا.

ونحشرہ یوم القیامۃ اعمیٰ دنیا میں تو آنکھوں کو دیکھ دیکھ کر مسکراتا تھا کیا ہی آنکھیں سرمگیں ہیں بغیر سرمہ لگائے قیامت کو میں اسے اندھا کر کے اُٹھاؤں گا قال رب لم حشرتنی اعمیٰ وقد کنت بصیرا اللہ میں آج اندھا کیوں ہوگیا قیامت کو کہے گا میری تو آنکھیں تھیں قال کذالک اتتک ایاتنا فنسیتھا وکذالک الیوم تنسی تیرے پاس بھی میری آیتیں آئی تم نے آیتوں کو بھلا دیا آج ہم نے تجھے بھلا دیا ۔حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک اعرابی نے (کہیں سے) آکر اپنے اونٹ کو بٹھایا پھر اُسے ٹانگ سے باندھ کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے چلا گیا، جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو اُس نے اپنے اونٹ کے پاس آکر اس کی رسی کو کھولا۔

پھر اُس پر سوار ہو کر دعا کرنے لگا: یا اللہ! تو مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحم فرما اور ہماری رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ سن کر صحابہ سے) فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اُس کا اونٹ؟ کیا تم نے سنا نہیں کہ اُس نے کیا کہا؟ اُنہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (یا رسول اللہ! ہم نے سنا ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اُس اعرابی سے) فرمایا: تُو نے (اللہ تعالیٰ کی رحمت کو) تنگ کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے، اللہ تعالیٰ نے کل سو رحمتوں کو تخلیق کیا جن میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک رحمت (زمین پر) اُتاری، مخلوقات میں سے جن و انس اور بہائم (درندے) اُسی کی وجہ سے باہم شفقت و مہربانی کرتے ہیں جبکہ ننانوے رحمتیں اُس کے پاس ہیں۔ اب تم کیا کہتے ہو کہ یہ زیادہ گمراہ ہے (جسے رحمتِ الٰہی کی وسعت کا علم نہیں) یا اُس کا اونٹ (جو اس کے ماتحت ہے)۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین