اس نسخے سے بستر سے لگے لوگ ٹھیک ہوجائیں گے کمر درد اور مہرون کے درد کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم

آج کے مشینی دور میں کم جسمانی سرگرمیوں کی وجہ سے کمر درد صحت کا ایک انتہائی سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ کمر درد کا مسئلہ کم مدتی اور طولانی دونوں صورتوں میں سامنے آ سکتا ہے۔ کم مدتی درد عام طور پر کمر کے پٹھوں کے کھنچائو کی وجہ سے ہوتا ہے جو عام دافع درد ادویات کے استعمال سے ختم ہو جاتا ہے جبکہ طولانی مدت کمردرد کی صورت میں جو کئی مہینے دافع درد ادویات کے استعمال سے بھی نہیں جاتا، اس کی وجوہات کو تلاش کرنا پڑتا ہے۔ جس کی کئی ایک وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں کمر کے مہروں کے درمیان ڈسک کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا سرفہرست ہے اور علاج نہ کرانے کی صورت میں انتہائی مضر صحت نتائج سامنے آ سکتے ہیں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کمر کے مہروں اور ان کے درمیان ڈسک اور ان سے جڑی ہوئی بیماری کیسے لاحق ہوتی ہے اور اس کا بہترین تدارک کیسے ممکن ہے۔قدرت نے انسان کی ریڑھ کی ہڈی میں 33 مہرے بنائے ہیں

بظاہر تو یہ ایک ہڈی نظر آتی ہے لیکن اصل میں یہ ان 33 مہروں سے مل کر بنتی ہے ہر دو مہروں کے درمیان ایک نرم مواد صورت ڈسک ہوتی ہے جو کہ ریڑھ کی ہڈی میں لچک فراہم کرتی ہے اور جسم کو پیش آنے والی کسی بھی قسم کی شدید ضرب کی صورت میں اس کے اثرات کو زائل کرتی ہے ریڑھ کی ہڈی کے عقب میں ایک سوراخ ہوتا ہے جس میں سے حرام مغز گزرتا ہے جہاں سے دونوں بازوئوں، ٹانگوں، پیشاب و پاخانہ کنٹرول کرنے اور جنسی اعضاء کو نسوں کی ترسیل ہوتی ہے۔ ریڑھ کی ہڈی کے نچلے مہروں کے درمیان کی ڈسک کھسک کر نسوں پر دبائو ڈالے تو شدید صورت میں اس کے نتائج دونوں ٹانگوں کا فالج ہونا، پیشاب و پاخانے کا کنٹرول ختم ہونا اور مردانہ طاقت کے خاتمے کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔پچانوے فیصد مریضوں میں کمر کے مہروں کی ڈسک اسی حصے میں متاثر ہوتی ہے۔اسی طرح اگر گردن کے مہروں کی ڈسک اپنی جگہ سے کھسک کر حرام مغز پر براہ راست شدید دبائو ڈالے

تو اس صورت میں دونوں بازووں اور دونوں ٹانگوں کا فالج بھی ہو سکتا ہے بروقت علاج نہ کرانے کی صورت میں انسان مستقل طور پر معذور ہو سکتا ہے گردن کے مہروں کی ڈسک عام طور پرتین فیصدمریضوں پراثر انداز ہوتی ہے۔کمر کے مہروں کی ڈسک سے متعلقہ بیماری عموماً عمر کے تیسرے سے پانچویں عشرے میں درپیش آتی ہے۔ وجوہات میں بڑھتی ہوئی عمر، جسمانی طور پر متحرک نہ ھونا، سگ ریٹ نوشی وغیرہ شامل ہیں۔ مردوں میں یہ تناسب عورتوں کے مقابلے میں دوگنا ہوتا ہے۔ کمر کے مہروں کی ڈسک کی بیماری میں مبتلا مریض عموماً کمر درد، ٹانگ کا درد، ٹانگ کا سن ہونا کی علامات کے ساتھ نیورو سرجن کے پاس آتے ہیں۔ ابتدائی جسمانی معائنے کے بعد ایم آر آئی تجویز کی جاتی ہے ہڈی کے ڈاکٹر بھی کمر کے مہروں کی ڈسک کا علاج کرتے ہیں ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین