حضرت عیسیٰ ؑ نے دو مبلغین کو شہر انطا کیہ بھیجا۔ جنہوں نے بوڑھوں اور بیماروں کو شفا دی تو ب ت پرست بادشاہ انطیحا نے مبلغوں کو قید کر لیا

انطاکیہ ملک شام کا ایک بہترین شہر تھا جن کی فصیلیں سنگین دیواروں سے بنی ہوئی تھیں اور پورا شہر پانچ پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا اور شہر کی آبادی کا رقبہ بارہ میل تک پھیلا ہوا تھا۔ حضرت عیسیٰؑ نے اپنے حواریوں میں سے دو مبلغوں کو تبلیغ دین کے لیے اس شہر میں بھیجا ۔ ایک نام ” صادق” اور دوسرے نام “مصدوق ” تھا جب یہ دونوں شہر میں پہنچے تو ایک بوڑھے چرواہے سے ان دونوں کی ملا قات ہو ئی جس کا نام ” حبیب نجار ” تھا سلام کے بعد حبیب نجار نے پو چھا کہ آپ لوگ کون ہیں اور کہاں سے آ ئے ہیں اور مقصد کیا ہے؟ تو ان دونوں صاحبان نے کہا کہ ہم دونوں حضرت عیسیٰ ؑ کے بھیجے ہوئے مبلغین ہیں۔ خدا عزوجل کے حکم سے شفا دیتے ہیں یہ ان دونوں کی کرامت اور حضرت عیسیٰ ؑ کا معجزہ تھا یہ سن کر حبیب نجار نے کہا کہ میرا ایک لڑ کا مدتوں سے بیمار ہے کیا آپ لوگ اس کو تندرست کر دیں گے؟ ان دونوں نے کہا کی جی ہاں یہ خبر بجلی کی طر ح سارے شہر میں پھیل گئی ۔

اور بہت سے مریض جمع ہو گئے اور سب شفاء یاب ہو گئے اس شہر کا بادشاہ انطیخا نامی ایک ب ت پرست تھا وہ ان دونوں کی زبان سے توحید کی دعوت سن کر مارے غصہ کے آپے سے با ہر ہو گیا۔ اس نے دونوں مبلغوں کو گرفتار کر کے سو سو درے لگا کر جیل خانہ میں قید کر دیا اس کے بعد حضرت عیسیٰؑ نے اپنے حواریوں کے سردار حضرت شمعون ؓ کو انطا کیہ بھیجا۔ آپ کسی طرح بادشاہ کے دربار میں پہنچ گئے۔ اور بادشاہ سے کہا کہ آپ نے ہمارے دو آدمیوں کو کوڑے لگا کر جیل خانہ میں قید کر دیا ہے کم سے کم آپ ان دونوں کی پوری بات تو سن لیتے۔ بادشاہ نے ان دونوں کو جیل خانہ سے بلوا کر گفتگو شروع کی اور ہمارے ذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا بو لے ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں بے شک تم اگر باز نہ آ ئے تو ضرور ہم تمہیں سنگسار کر یں گے اور بے شک ہمارے ہاتھوں تم پر دکھ کی مار پڑ ے گی انہوں نے فر ما یا تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہے۔

کیا اس پر بد کتے ہو کہ تم سمجھا ئے گئے بلکہ تم پر سے بڑھنے والے لوگ ہو اور شہر کے پر لے کنارے سے ایک مرد دوڑتا آ یا بو لا اے میری قوم ! بھیجے ہوؤں کی پیروی کر و ایسوں کی پیروی کرو جو تم سے کچھ نیک ( اجر) نہیں مانگتے اور وہ راہ پر ہیں۔ درسِ ہدایت: حضرت عیسیٰؑ کے تینوں مبلغین یعنی صادق و مصدوق اور شمعون کی سرگزشت اور تبلیغ دین کی راہ میں ان حضرات کی دشوا ریاں اور قید و بند کے مصائب اور ہوش ربا د ھمکیوں کو دیکھ کر یہ سبق ملتا ہے۔ کہ تبلیغ دین کرنے والوں کو بڑی بڑی مصیبتوں اور مشکلات کا سا منا کر نا پڑتا ہے مگر جب آدمی اس راہ میں مستقل مزاج بن کر ثا بت قدم رہتا ہے اور صبر و تحمل کے سا تھ اس دینی کام میں ڈٹا رہتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ غیب سے اس کی کا میابی کا سا ما ن پیدا فر ما دیتا ہے وہ مقلب القلوب اور ہادی ہے وہ ایک لمحہ میں منکر ین کے دلوں کو بدل دیتا ہے اور دلوں کی گمراہی دور فر ما کر ہدایت کا نور بخش دیتا ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔