ایک عورت اپنا دو ماہ کا بچہ کندھے سے لگائے حضور نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزری

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک عورت اپنا دو ماہ کا بچہ کندھے سے لگائے حضور نبی کریمﷺ کے پاس سے گزری۔ یہ عورت حضور سرورِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا پہنچانے میں ہمیشہ پیش پیش رہتی بچے کی نگا ہیں حضور ﷺ پر پڑ یں تو وہ کہنے لگا۔

السلام علیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سلام علیک یا محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضور نبی کریم ﷺ نے اس بچے کے سلام کو جواب دیا عورت نے اپنے بچے کو اس طرح بو لتا ہوا دیکھا تو بڑی حیران ہو ئی اور حیرت زدہ ہو کر بو لی تجھے کس نے بات کر نا سکھا یا ہے۔

اور تجھے یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں؟ بچے نے جواب دیا یہ معرفت مجھے اللہ تعالیٰ نے دی ہے اور اللہ کے فرشتے جبریل علیہ السلام نے مجھ سے یہ سب کچھ کہلو ا یا ہے یہ سن کر حضور نبی کریم ﷺ نے بچے سے اس کا نام پو چھا،

تو اس نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میری ماں نے میرا نام عبدالعزی ( بت کا نام) رکھا ہے لیکن میں عزی سے سخت نفرت کرتا ہوں آپ میرا نام تجویز فرما دیں حضور نبی کریمﷺ نے اس کا نام عبدالعزیز رکھا۔

بچے کی ماں نے اپنی گود میں یہ معجزہ دیکھا تو کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس معجزہ کے بعد آپ کی نبوت کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ چنانچہ اس عورت نے کلمہ شہادت پڑھا اور اسلام قبول کر لیا۔ ایک عورت اپنا دو ماہ کا بچہ کندھے سے لگائے حضور نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزری۔

یہ عورت حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا پہنچانے میں ہمیشہ پیش پیش رہتی۔ بچے کی نگا ہیں حضور ﷺ پر پڑ یں تو اس نے ایسا کلام کہا جسے سن کر حضور ﷺ بہت خوش ہو ئے آپ نے بھی اس بچے کے ساتھ کلا م کیا اور اس بچے کے کلام کو سن کر وہ م ش ر ک عورت آپ ﷺ پر ایمان لے آ ئیں۔