نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا ایک بار پڑھ لو قیامت تک رزق ختم نہیں ہوگا۔

شب برائت انتہائی بابرکت رات ہے اور اس رات اللہ کے حضور تمام لوگوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں اور رزق لکھا جاتا ہے اورکس نے کب م ر ن ا ہے وہ لکھا جائے گا انہی اعمال صالحہ کی غرض سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم شعبان کا پورا مہینہ روزے رکھتے تھے تو کیوں نہ ہم بھی اپنے اعمال کو سنوار لیں ۔

انشاء اللہ یہ وظائف آپ کے گھر کو رزق سے اتنا بھر دیں گے جو تا قیامت ختم نہیں ہوگا اور یہ الفاظ میرے نہیں ہیں بلکہ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم کہو گے اللھم الرزقنی تو اللہ کہے گا میں نے رزق دینے کا فیصلہ کر لیا اسی پر ایک واقعہ ہے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے پاس آیا اور اس پر فاقے کے حالات دیکھے تو وہ جنگل کی طرف نکل گیا یہ دیکھ کر اس کی بیوی چکی کی طرف بڑھی اور اسے لا کر رکھا تنور کو دہکایا اور کہنے لگی اللھم ارزقنا اے اللہ ہمیں رزق عطا فرما

اس کے دیکھتے ہی دیکھتے اچانک پیالہ بھرا ہوا تھا پھر وہ تنور کے پاس گئی تووہ بھی بھرا ہوا تھا اتنے میں اس کا شوہر واپس آگیا اور کہنے لگا کیا میرے بعد تمہیں کچھ حاصل ہوا ہے اس کی بیوی نے کہا ہاں ہمارے رب کی طرف سے یہ چیزیں ملی ہیں چنانچہ وہ اٹھ کر چکی کے پاس گیا اور اس کا پاٹ اٹھا کر دیکھا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے جب یہ واقعہ ذکر کیا گیا

تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ چکی کا پاٹ نہ اٹھاتا تو وہ قیامت تک گھومتی رہتی ۔ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک مہمان آیا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا لانے کے لئے ایک آدمی کو اپنی ازواج کے پاس بھیجا

لیکن ان میں سے کسی ایک کے پاس بھی کھانا نہ ملا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی اللھم انی اسئلک من فضلک ورحمتک فانہ لا یملکھا الا انتَ اے اللہ میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں بے شک تیرے سوا اس کا کوئی مالک نہیں ہے

چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھنی ہوئی بکری کا تحفہ لایا گیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ اللہ کا فضل ہے اور ہم اس کی رحمت کا انتظارکرر ہے ہیں ۔ حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی شخص آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب میں اپنے رب سے دعا کروں تو کیا کہا کروں

آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہو اللھم اغفرلی وارحمنی واھدنی وعافنی وارزقنی اے اللہ مجھے معاف فرما مجھ پر رحم فرما مجھے عافیت عطا فرما اور مجھے رزق عطا فرما اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ چیزیں تمہاری دنیا و آخرت کو جمع کرنے والی ہیں ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین