شادی کے بعد بیوی بری کیوں لگتی ہے؟

انسان اپنی زندگی میں جانے کتنے لوگوں سے تعلقات استوار کرتا ہے ۔ کتنے ہی لوگ اس کی زندگی میں آتے ہیں چلے جاتے ہیں بے شمار لوگوں کو اپنا دوست بناتا ہے جو وقت اور حالات کے دائرے میں رہتے ہوئے اچھا برا جیسا بھی اپنا کردار نبھاتے ہیں چلے جاتے ہیں انہی آنے جانے والوں میں سے انسان اپنے لیے ایک ایسے دوست کا انتخاب بھی کرتا ہے جو ایک بار شامل ہونے کے بعد کبھی دور نہیں جاتا ۔

جو زندگی کے ہر نشیب وفراز میں سایہ بن کر ہمیشہ ساتھ رہتا ہے جو نکاح جیسے خوبصورت بندھن مین بندھ کر ایک دوسرے کیلئے راحت وتسکین کا نہ صرف باعث بنتے ہیں بلکہ دو انسانوں کے بیچ قائم ہونے والے سب سے پہلے رشتے کی حرمت کو جلا بخش کر حکم خداوندی کی تعمیل بھی کرتے ہیں بے شک اللہ تعالیٰ کی جانب سے مرد وزن کے درمیان نکاح کے ذریعے قائم ہونیوالا یہ رشتہ انسان کیلئےعظیم تحفہ ہے ۔

ایک ایسا رشتہ جس میں میرے رب نے خیر ہی خیر ڈالی ہے ۔ جو محبت خلوص احساس ہمدری اور وفاداری اور ایک دوسرے کیلئے قربانی جیسے جذبات سے لبریزہے افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے آج شیطان نے شاطرانہ چالوں سے اس مقدس رشتے میں بداعتمادی نفرت اور کینہ وبغض ،فساد اور بے وفائی کے بیج بو کر اس رشتے کے حرمت کو تار تار کیا اور اس کی افادیت کو بھی کھو دیا ہے ۔

آج صورتحال یہ ہے کہ زندگی بھر ساتھ چلنے والوں کا دو منٹ ساتھ بیٹھنا محال نظر آتا ہے بداعتمادی کا عنصر اس قدر غالب ہوچکا ہے ہر گھر سازشوں کا آماجگاہ بن چکا ہے ۔ عنارکی نے ہر طرف ڈیرے جمائے ہوئے ہیں ایک دوسرے کی عظمت کی قسم اٹھانے والے صبح وشام ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں کوشاں ہیں۔

زندگی بھر ایک دوسرے کا سہار ا بننے والے میاں بیوی آج اپنی اولادوں کو ایک دوسرے سے بدزن کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جس پر بچے پر انتہائی منفی اثرات پڑ رہے ہیں ایسے بچے بڑے ہوکر نہ باپ کے کہنے میں رہتے ہیں نہ ماں کے یہی وجہ ہے کہ آج بیشتر گھروں میں سکون نہیں ہے ۔ نا ہی خیروبرکت ایسا کیوں ہوتا ہے کہ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی میا ں بیوی کی محبت اچانک ختم ہونا شروع ہوجاتی ہے

پہلے والی محبت نہیں ہوتی اس کی وجوہات ہمیں تلاش کرنی چاہیے اگر ہم چاہتے ہیں کہ میاں بیوی کی زندگی پرسکون رہے تو اس بارے میں سیدنا علی ؓ نے بھی ارشاد فرمایا کہ آخر کس وجہ سے میاں بیوی کی محبت ختم ہوجاتی ہے وہ وجوہات جاننا بہت ضروری ہے ظاہر سی بات ہے شادی کی ہے تو اس رشتے میں محبت ختم نہ ہو یہ بھی جاننا ضروری ہے ۔

جب ایک مرد دوسری چیزوں میں دلچسپی لیتے ہوئے اپنی زندگی کی ساتھی کو نظر انداز کرنے لگے ہم سبھی کسی نہ کسی کی توجہ چاہتے ہیں ۔ یہ سمجھنے کیلئے ضروری مردوں اور عورتوں کو اسی قسم کی توجہ کی ضرورت ہوتی عورت محسو س کرتی ہے اس کا جیون ساتھی توجہ نہیں دے رہا ۔جب مرد اپنی غلطی تسلیم نہ کرے

لڑائی اختلاف ہر رشتہ کا ناگزیر جز ہے ضروری ہے کہ دونوں کچھ بنیادی اصولوں پر متفق ہوں ۔اپنی غلطی کو ہمیشہ تسلیم کرنے کیلئے تیار ہوں ایسے لوگ جو اپنی غلطی تسلیم نہیں کریں گے تو عورتوں کے دل میں ان کیلئے نفرت پیدا ہونے کے امکان زیادہ ہیں۔ لڑائی جیتنے کیلئے نہیں ہوتی جب آپ اپنی غلطی پر ہوں کس طرح معاملات کو ٹھیک کرنا آپ کی ذمہ داری بنتی ہے ۔ جب مرد اپنی بیوی تعریف کم کردیتا ہے آپ اپنے پارٹنر کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں اور اسے اہمیت دیں۔

ایک شخص حضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہو ا کہنے لگا میری شادی کو کچھ عرصہ گزر چکا ہے بیوی اچھی نہیں لگتی تو آپ ؓ نے خوبصورت جواب دیا کہ اکثر انسان کے پاس جو نعمت نہیں ہوتی وہ اس کی تمنا کرتا ہے جب وہ نعمت مل جاتی تو اس پر ناشکری کرنا شروع کردیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ہزار نعمتیں موجود ہیں آنکھیں کان ہاتھ پاؤں وغیرہ چوبیس گھنٹے کے استعمال کرنے کے باوجو شکر ادا نہیں کرتا ۔

کسی کی شادی نہیں ہوتی تو تمنا کرتا اور شادی کے ہونے کے بعد کچھ عرصہ بیوی کے ساتھ رہنے کے بعد پھر اس کے علاو ہ کی تمنا شروع کردیتا جو اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے۔

Leave a Comment