امام کعبہ نے مسلمانوں کو بڑا راز بتادیا ساری رات تہجد پڑھتے رہنے سے بہتر ہے کہ تم۔۔۔؟

صحیح مسلم میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے گھر ٹھہر گئے تو رات کے آخری پہر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اٹھے باہر نکلے اور آسمان کی طرف دیکھا پھر سورہ آل عمران کی اس آیت کو تلاوت کیا زمین اور آسمانوں کی پیدائ میں اور رات اور دن کے باری باری آنے میں ان سمجھدار لوگوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے اور ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں

اور آسمان و زمین کی ساخت میں غورو فکر کرتے ہیں پرور دگار! کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا تو پاک ہے اس سے عبث کام کرے۔ پس اے ہمارے رب ہمیں د و ز خ کے ع ذ ا ب سے بچا پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اندر آئے مسواک کی اور وضو بنایا پھر نماز پڑھی پھر لیٹ گئےپھر اٹھے باہر نکلے اور آسمان کی طرف دیکھا پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی

پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اندر آئے مسواک کی اور وضو بنایا پھر نماز پڑھی پھر لیٹ گئے یہ ہیں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں پوری توجہ کے ساتھ ادا کی جانے والی دو رکعتیں غفلت کے ساتھ ادا کی جانے والی رات بھر کی تہجد سے بہتر ہے جب عظیم صحابیہ ام ورداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا

ابودرداء کی افضل ترین عبادت کون سی تھی کہتیں تدبر اور عبرت پکڑنا حسن بصری رحمۃ اللہ فرماتے ہیں تھوڑی دیر کا تدبر ساری رات کی تہجد سے بہتر ہے ۔رات کی تنہائی میں اﷲ تعالیٰ کو یاد کرنا بڑی اہمیت و فضیلت کا حامل ہے۔ بندہ اس وقت اپنے مالک حقیقی کو پکارتا ہے جب سارا عالم سو رہا ہوتا ہے۔

وہ اپنے مولا کو منانے کے لئے اپنی راحت و آرام قربان کر دیتا ہے۔ وہ کبھی قیام کی حالت میں اﷲتعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو کبھی رکوع اور سجدے میں جاکر اپنے عجز و انکسار کا اظہار کرتا ہے۔ .

اپنے بندے کی یہ ادا اﷲ رب العزت کو بے حد پسند ہے۔ وہ ایسے شب زندہ دار بندوں پر آسمان سے انوار و تجلیّات کی بارش نازل فرماتا ہے اور انہیں اپنے مقبول بندوں میں شامل فرما کر مستجاب الدّعوات بنا دیتا ہے۔

قیام اللّیل کا نور دن کو بھی چھایا رہتا ہے اور وہ رات میں قیام کرنے والے کو اس طرح اپنی پناہ اور حفاظت میں رکھتا ہے کہ بندہ دن بھرنفس اور شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے رات کو اٹھنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

Leave a Comment