ہجرت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں جب میں اور حضوراکرمﷺ مکہ مکرمہ سے نکلے

حضرت ابو بکر صدیق ؓ ہجرت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں جب میں اور حضور نبی اکرمﷺ مکہ مکرمہ سے نکلے تو رات کا وقت تھا ہم ساری رات سفر کرتے رہے اور صبح کے وقت ہمیں ایک چٹان نظر آئی ۔میں نے اس چٹان کے سائے میں ایک کپڑا بچھا دیا۔تاکہ حضور نبی اکرمﷺ کچھ دیر آرام فرمالیں۔

حضور نبی اکرمﷺ کچھ دیر آرام کی غرض سے تشریف فرما ہوئے اور میں نے وہاں پہرہ دینا شروع کردیا ہے ۔ اس دوران ایک چرواہا وہاں سے گزرا میں نے اس سے دریافت کیا اس کی بکریاں دودھ دیتی ہیں۔

تو ا س نے ایک بکری میرے حوالے کردیا جس کے تھنوں کو صاف کرکے میں نے دودھ دوہا اور دودھ کا برتن حضور نبی کریمﷺ کی خدمت میں پیش کردیا ۔ آپﷺ نے سیر ہوکر دودھ پیا اور باقی دودھ مجھے دے دیا جو میں نے بھی سیر ہوکر پیا ۔ دودھ پینے کے بعد ہم وہاں سے روانہ ہوئے تو راستہ میں سراقہ بن مالک نے ہمیں دیکھ لیا۔

میں نے اسے دیکھا تو گھبرا گیا اور حضور نبی اکرمﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ یہ ہماری ہی تلاش میں ہوگا آپﷺ نے فرمایا اے ابوبکر ؓ اللہ ہمارے ساتھ ہے حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کچھ دیر بعد جب سراقہ بن مالک ہمارے نزدیک پہنچ گیا تو میں نے پھر حضور نبی کریمﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ ہمارے بلکل نزدیک آگیا ہے آپﷺ نے فرمایا اے ابوبکر کیوں غم کرتے ہو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے اپنی نہیں بلکہ آپﷺ کی فکر ہے ۔

حضورنبی اکرمﷺنے دعا کیلئے ہاتھ بلند فرمائے اور بارگاہ خداوندی میں عرض کیا اے اللہ تو جس طرح چاہے ہماری حفاظت فرما۔حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرمﷺ کا یہ کہنا تھا کہ سراقہ بن مالک کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔

وہ چھلانگ لگا کر گھوڑے سے اترا اور حضور نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کرنے لگا میں جانتا ہوں یہ آپﷺکی دعا کا اثر ہے اگرآپﷺ مجھے اس مصیبت سے نجات دلوادیں تو میں انہیں جو آپﷺ کی تلاش میں ہے انہیں یہاں نہیں آنے دوں گا۔

حضور نبی اکرمﷺ نے اس کے حق میں دعا فرمائی اور اس کا گھوڑا زمین سے نکل آیا ۔ سراقہ بن مالک گھوڑا نکلنے کے بعد واپس مکہ مکرمہ لوٹ گیا۔

Leave a Comment