حضرت عائشہؓ سے ایک عورت نے کہا کہ میں جادوگر کے پاس جادو سیکھنے گئی

اللہ تعالیٰ سے دلی دعا ہے کہ جتنے بھی بے اولاد ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اولاد عطاء فرمائے جو رشتوں میں بندش کیوجہ سے کاروبار میں رکاوٹ کیوجہ سے مالی تنگدستی کیوجہ سے پریشان ہیں یا اولاد نورینہ کیوجہ سے پریشان ہیں اللہ پاک اپنے حبیب مصطفیﷺ ان کی پریشانیاں مشکلات حل فرمائے ۔درود تنجینا وہ درود شریف ہے جو ہر مشکل اور مصائب وآلام سے نجات عطاء فرماتا ہے ۔

اس درود شریف کو تنجیہ بھی کہا جاتا ہے اس کے فضائل بے پناہ ہیں بزرگان دین کا بارہا آزمودہ ہے ۔ غوث اعظم ؒ نے فرمایا کوئی شخص نہایت مشکل میں پھنس گیا ہو اس نے باوضو ہوکر یہ درودشریف پڑھنا شروع کیا

تو اس کی مشکل بہت جلد آسان ہوگئی ۔ جو کوئی اس درود پاک کو قبلا روح ہوکر ادب واحترام کیساتھ ہر روز 300بار پڑھے گا اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی سخت ترین مشکل بھی حل ہوجائیگی ۔ درود تنجینا کا وظیفہ اولاد کیلئے آپ نے کیسے پڑھنا ہے ۔ ایک شخص نے کیسے پڑھا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے نو سال بعد اس کو اولاد عطاء کردی ۔

ایک شخص نے بتایا کہ بیٹے کے حصول کیلئے یہ وظیفہ جس کسی کو بتایا اللہ تعالیٰ نے اسے اولادعطاء کی ہے وہ بتاتے ہیں کہ چودہ سال میں جس جس مرد کو یہ وظیفہ پڑھنے کیلئے دیا اللہ تعالیٰ نے سب کو اولاد عطاء کی اور سب کو بیٹے ہی نوازے ہیں بیٹے کے حصول کیلئے درود تنجینا کا یہ وظیفہ کیسے کرنا ہے کہ جب حمل کے دن اوپر ہوں تو پریگننسی ٹیسٹ کروانے کے آدھے گھنٹہ کے بعد پڑھائی شروع کردینی ہے ۔

پانچ خواتین گھر میں بیٹھ کر تین دن تک روزانہ 1000مرتبہ درود تنجینا پڑھیں ایک وقت مقرر کرنا ہے اگر ظہر کا وقت مقرر کیا ہے تو روزانہ ظہر کے وقت ہی پڑھنا ہے جو خواتین پہلے دن پڑھیں گی وہ متواتر تین دن تک وہی عورتیں ہی پڑھیں گے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیٹا ہی پیدا ہوگا ۔ جو بے اولاد حضرات ہیں انہوں نے اسی طرح عمل کرنا ہے

اس کا طریقہ الگ ہے جو بلکل بے اولاد ہیں اولاد نے ماہوار ی سے نہا لینا ہے اسی دن سے عمل شروع کرنا ہے اور یہی عمل سات دن تک مسلسل کرنا ہے ظہر کی نماز کے بعد عمل شروع کرنا ہے اور روزانہ 1000مرتبہ پانچ خواتین نے ایک ہی وقت پر درود تنجینا پڑھنا ہے ۔ وقت کی پابندی اور خواتین ایک ہی ہونی چاہئیں ۔

جو پہلے دن پڑھیں وہی ساتویں دن تک مسلسل وہی پڑھیں گی ۔میاں بیوی روزانہ رات کو قربت کریں گے اللہ کے حکم سے اولادجادو کے متعلق امام حاکم نے المستد رک میں اور ابن کثیر ؒ نے اپنی تفسیر میں حضرت عائشہ ؓ سے ایک واقعہ روایت کیا ہے آپ ؓ فر ما تی ہیں: رسول اللہ کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد دو متہ الجندل کے باشندوں میں سے ایک عورت میرے پاس آ ئی وہ رسول اللہ اسے مل کر جا دو کے متعلق کسی چیز کے بارے میں کچھ پو چھنا چاہتی تھی

حضرت عائشہ ؓ فر ما تی ہیں کہ جب اس عورت نے رسول اللہ کو نہیں پا یا تو میں نے اسے اس ودر روتے ہوئے دیکھا کہ اس کے رونے کی شدت سے مجھے ترس آ گیا وہ عورت کہہ رہی تھی کہ مجھے ڈر ہے کہ میں ہلا کت میں جا پڑی ہو ں۔۔ میں یعنی حضرت عائشہ ؓ نے اس سے واقعے کی تفصیل پوچھی تو اس نے مجھے بتا یا: میرا شوہر مجھ سے دور چلا گیا تھا پھر ایک بوڑھی عورت میرے پاس آ ئی تو میں نے اس سے اپنے حال کا شکوہ کیا۔

اس نے کہا کہ اگر تو وہ سب کر ے جس کا میں تجھے حکم دوں تو تیرا خاوند تیرے پاس لوٹ آ ئے گا میں نے کہا کہ ہاں میں کروں گی جب رات ہوئی تو وہ میرے پاس دو سیاہ کتوں کو لے کر آ ئی ان کتوں میں سے ایک پر وہ خود سوار ہو گئی اور دوسرے پر میں سوار ہوئی ان کی رفتار زیادہ تیز نہ تھی یہاں تک کہ شہر بابل پہنچ کر رکے وہاں دو آ دمی اپنے پروں سے ہوا میں لٹکے ہوئے تھے انہوں نے پوچھا کہ تجھے کیا ضرورت ہے؟ اور کیا ارادہ لے کر آئی ہے؟

میں ے کہا: جادو سیکھنا چاہتی ہوں انہوں نے کہا بے شک ہم آزما ئش ہیں لہٰذا تو کفر نہ کر اور واپس لوٹ جا میں نے انکار کیا اور کہا کہ میں نہیں لوٹوں گی انہوں نے کہا تو اس تندور میں جا کر پیشاب کر۔

میں وہاں تک گئی تو کا نپ اٹھی میں خوف زدہ ہو گئی اور پیشا نہ کر سکی اور یو نہی ان دونوں کے پاس لوٹ آئی انہوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تو نے پیشاب کیا؟ میں نے جواب دیا ہاں۔ انہوں نے پوچھا: کیا تو نے کوئی چیز دیکھی میں نے جواب دیا میں نے کچھ نہیں دیکھا انہوں نے کہا تو نے پیشاب نہیں کیا اپنے وطن لوٹ جا اور کفر نہ کر۔ میں نے انکار کر دیا چنانچہ انہوں نے پھر کہا اس تندور تک جا اور اس میں پیشاب کر۔

میں وہاں تک گئی پھر مجھ پر کپکپا ہٹ طاری ہو گئی اور میں ڈر گئی پھر میں ان کے پاس لوٹ گئی انہوں نے پھر مجھ سے پوچھا تو نے کیا دیکھا؟ یہاں تک کہ اس نے بتا یا کہ میں تیسری مرتبہ گئی اور تندور میں پیشاب کر دیا پس میں نے دیکھا کہ میرے اندر سے لوہے کے گلو بند والا ایک گھوڑا سوار نکلا اور آسمان کی طرف چلا گیا۔

تب میں ان کے پاس آ ئی اور انہیں اس بات کی خبر دی انہوں نے کہا: تو نے سچ کہا یہ تیرا ایمان تھا جو تیرے اندر سے نکل چکا ہے اب تو لوٹ جا پس میں نے اس عورت سے کہا: اللہ کی قسم میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتی اور کہا کیا انہوں نے اس کے علاوہ بھی تجھے کچھ بتا یا ہے اس نے جواب دیا: ہاں ضرور بتا یا ہے کہ آپ جو چاہیں گی وہ ہو جا ئے گا

چنانچہ میں نے رسول اللہ کے صحابہ ؓ سے اس بارے میں دریافت کیا لیکن انہیں بھی اس بارے میں معلوم نہیں تھےا کہ اس معاملے پر کیا کہیں۔ جس چیز کا مکمل علم نہ ہو اس کے متعلق صحابہ اپنی رائے دینے میں احتیاط کیا کرتے تھے انہوں نے صرف اتنا کہا: اگر آپ کے والدین یا ان میں سے کوئی بھی حیات ہوتے تو وہ آپ کے لیےکافی ہوتے۔

یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ فرما تے ہیں : ” یہ حدیث صحیح ہے۔” بانجھ عورت کو بھی عطاء ہوجائیگی ۔

Leave a Comment