ایک مرتبہ یہ سن لو اور غربت کو گھر سے دور بھگاؤ۔

اس دور میں خاص طور پر ہمارے نوجوان جو ہیں جو نئے تعلیم یافتہ ہیں بے چارے کالجوں سے پڑھے یونیورسٹیوں سے پڑھے دین سے زیادہ واقفیت نہیں ہے ان کو یہی شبہ ہوتا ہے کہ اللہ فرماتے ہیں ہم نے مسلمانوں کی مدد کی ہم مسلمانوں کے ساتھ ہیں ہم مومنوں کے ساتھ ہیں تو اب جو مومن ہر جگہ مررہا ہے تو اللہ کی مدد کہاں ہے؟ آج کل یہ بہت بڑا اشکال ہے جو لوگوں کے دماغوں میں دالا جاتا ہے ۔وہ اللہ کی مدد وہ اللہ کی نصرت وہ کیوں نہیں ہے کہ آج ہر جگہ مسلمان کشمیر میں نظر ڈالیں فلسطین پر نظر ڈالیں شام پر نظر ڈالیں حلب پر نظر ڈالیں آپ برما میں نظر ڈالیں روہنگیا پر نظر ڈالیں جہاں نظر ڈالیں مسلمانوں کا خ و ن بہہ رہا ہے ایک بات تو یہ سمجھئے کہ قرآن میں جہاں جہاں نصرت کا وعدہ ہے وہ اسی جماعت کے ساتھ تھا جو اس وقت میدان بدر میں موجود تھی یہ نہیں کہ وہ وعدہ سب کے لئے ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کا وعدہ مومنوں کی نصرت کا ہے پورے قرآن میں اللہ نے کسی جگہ یہ نہیں فرمایا +

کہ ہم مسلمانوں کی مدد کریں گے تم سربلند ہو گے شرط یہ ہے کہ مومن ہو ایمان والے اسلام تو ایک ظاہری نام ہے اصل تو ایما ن ہے دل کے اندر اسی طرح ہم پر مومنوں کی مدد کرنا واجب ہے اسی طرح فرمایا ہم اپنے رسولوں کی مدد کرتے ہیں اور ان کی جو ان پر صحیح ایمان لائے اور اب چونکہ ہم مومن نہیں رہے تو امداد کہاں سے آئے گی اگر آج بھی ہم مومن بن جائیں تو جیسے اقبال نے کہا تھا کہ فضائے بدر پیدا کر تم اسی طرح وہ میدان بدر کی فضا کر و وہ روحِ بلالی پیدا کرو تم اپنے اندر وہ جذبہ ایمان ،حب مہاجرین و انصار پیدا کرو تو آج بھی اللہ کی مدد آنے کے لئے تیار ہے اور دیکھ لیں کہ بدر میں تو میرا مدنی پاک بھی موجود ہے لیکن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور آیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ یعنی اسلام پھیلتا گیا کیونکہ وہ صحیح مومن تھے اللہ نے فرمایا میرا مدنی تیرے صحابہ اندر باہر سے پکے مومن ہیں

تو جب تک وہ صحیح ایمان والے میدا ن میں رہے اللہ کی نصرت ان کے قدم چومتی رہی اور انہوں نے مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے جنوب تک ہسپانیہ سے لے کر ماوراء النہر ترکمانستان جتنی ریاستیں ہیں ہر جگہ اسلام کا پرچم بلند کر دیا اسی لاکھ مربہ میل پر اسلام کا پرچم لہرا دیا۔اپنے اعمال پر توجہ دیجئے حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Leave a Comment