میں نماز پڑھنا شروع کرتی تھی چھوٹ جاتی تھی میں بہت پریشان تھی کہ آخر نماز میں سکون کیوں نہیں

میں نماز پڑھنا شروع کرتی ہوں پھر چھوٹ جاتی ہے کبھی بہت اچھا لگتا ہے، کبھی نماز سکون دیتی ہے مگر تھوڑے ہی ٹائم بعد بیزاریت ہو جاتی ہے، نماز بوجھ لگتی ہے مجھے اپنا بھاری وجود نماز کےلئے اٹھانا مشکل لگتا ہے۔وہ بہت تھکے ہوۓ لہجے میں کہہ رہی تھی مجھے لگ رہا تھا بات کرتے کرتے اس کا سانس پھول رہا تھا وہ مجھے ظاہری نہیں باطنی طور پر تھکی ہوئی محسوس ہوئی۔

نظر کا پردہ کرتی ہو میں نے نرمی سے اسے دیکھتے ہوۓ اس سے سوال کیا۔ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا، اس بات کی شاید توقع نہیں تھی اسے نظر کا پردہ ؟ میں میں تو نقاب کرتی ہوں خود، میں سمجھی نہیں نظر کے پردے کا کیا تعلق نماز سے الفاظ بےترتیب تھے۔

میں مسکرا دی۔ تعلق تو ہے بہت گہرا ہے بری نظر شیطان کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے جو انسان کے دل میں اتر جاتا ہے، پردہ کرنا تو بہت آسان ہے مگر نظر کا پردہ کچھ مشکل ہے۔ جب نگاہ پاک نہیں رہتی نا تو عبادتوں سے لذّت جاتی رہتی ہے جب نگاہ پاک نہیں رہتی تو سوچ بھی پاک نہیں رہتی، اور جب سوچ خراب تو نیت خراب اور اعمال کا دارومدار تو ہے ہی نیتوں پر۔ تمہیں پتا ہے؟

انسان جو دیکھتا ہے سوچتا ہے، جو سنتا ہے وہ اس کے دل پر اثر رکھتا ہے۔ ہم کیا دیکھتے ہیں، کیا سنتے ہیں، کیا بات کرتے ہیں، کبھی سوچا ہے ؟؟ تم خود تو پردہ کرتی ہو تو کیا ہر وہ نا محرم جو تمہاری نظر کو اچھا لگے، اسے پہلی نظر کے بعد اپنے نفس کی تسکین کے لئے کتنی بار دیکھتی ہو کہ وہ کس قدر خوبصورت ہے ؟؟

فیس بک پر کوئی غیر مناسب تصویر، کوئی ویڈیو، کوئی بات جب کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا تنہائی میں مگر صرف اللہ! تو کیا ایک دفع اس پر رکتی ہو ؟

کبھی کوئی فلم، کوئی گانا جس میں نا محرم تو خیر چھوڑو ہماری اپنی صنف کا بھی پردہ پورا نہیں ہوتا، بے خیالی میں دیکھ لیتی ہو ؟ اور پھر نا محرم ہمارے ارد گرد کے مرد تو نہیں ہیں نا یہ جو ٹیلی ویژن پر آنے والے ایکٹرز، ماڈلز، جن کی غائبانہ محبت میں ہم گرفتار ہوتے ہیں، انہیں غور سے دیکھتے ہیں، ان کی باڈی، ڈریسنگ اور لُکس کی تعریف یہ سب نظر کا پردہ ختم ہونے کے بعد ہی ہو پاتا ہے

تو تم سوچو میں نہیں کہہ رہی اس کا جواب مجھے دو اپنا تجزیہ کرو اس کا جواب اپنے دل کو دو اگر اسکا جواب ہاں میں آۓ تو سمجھ جاؤ یہ نظر کی خیانت تم سے تمہاری عبادت کی لذت چھین رہی ہے دل کو سیاہ کر رہی ہے ز ن ا صرف ایک طرح کا تو نہیں ہوتا اگر ہاتھ سے کچھ غلط چھوا تو وہ ہاتھ کا ز ن ا، زبان سے فحش بات کہی تو زبان کا ز ن ا ہے،

آنکھوں سے کچھ حرام دیکھا تو وہ آنکھوں کا ز ن ا ہے نظر کی بے پردگی دل میں ایسا سوراخ کر دیتی ہے کہ جس سے ہمارے دل کا نور بہتا جاتا ہے

اور پھر جو لوگ نظر کا پردہ نہیں کرتے، ان کی نمازیں ان پر بھاری ہو جاتی ہیں، اگر وہ نماز پڑھ بھی لیں تو بےدلی سے پڑھتے ہیں، دل نہیں لگتا بوجھ سا رہتا ہے دل پر تو کیا تم نظر کا پردہ کرتی ہو ؟ اگر نہیں تو آج سے عہد کر لو کہ کرو گی جب کبھی غلطی سے کچھ غلط دیکھ بھی لو، اگر کبھی تمہارا نفس تمہارے ایمان پر حاوی آجاۓ تو فوراً استغفار کر لیا کرو اللہ کی طرف رجوع کر لیا کرو،

پھر تم دیکھنا نمازوں کا لطف، عبادت کی لذت اور دل کا سکون سب تمہیں عطا کر دیا جائے گا اور ایک اور بات سکون نماز میں رکھا گیا ہے کہ قرآن خود کہتا ہے کہ بے شک اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون حاصل ہے ۔ اب اگر کسی کو وہ سکون محسوس نہیں ہوتا

نا تو اسے ایک مثال سے سمجھو ایک بیمار شخص ہے اسکو آپ اس کے پسندیدہ کھانا لا کر دو وہ نہیں کھاے گا اب وہ کہے کھانے میں لذت نہیں ہے یہ تو کوئی بات نہ ہوئی نا کھانے میں لذت ہے، کھانا وہی ہے مگر اس کا معدہ بیمار ہے اسی طرح سکون عبادت میں رکھا گیا ہے لیکن جس کو نہیں ملتا اسے سمجھ جانا چاہئے کہ اس کا دل بیمار ہے .

اور اس دل کی صحتیابی کا نظر کی حفاظت کا بہت گہرا تعلق ہے میری پیاری میں نے تحمل سے اپنی بات مکمل کر کہ اس کی جانب دیکھا جو بات میں نے خود ایک عرصے کی کوشش، بیچینی اور اضطراب کے بعد سمجھی تھی وہ اس تک پہنچا دی تھی مجھے جواب کی ضرورت نہیں رہی تھی اس کی آنکھوں کی چمک میرے لئے کافی تھی۔

Leave a Comment