صبح خالی پیٹ صرف 1 منٹ کا لاجواب وظیفہ

اس تحریر میں صرف ایک منٹ کا وظیفہ پیش کیا جارہا ہے صبح خالی پیٹ یہ عمل آپ کر لیجئے یقین مانئے آپ کے جو خالی ہاتھ ہیں وہ دولت سے بھر جائیں گے اللہ پاک آپ کی ہر قسم کی جو مالی پریشانیاں ہیں ان کو حل فرما دیں گے ایک انسان دن رات محنت کرتا ہے اور اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اتنا پیسہ کما سکے کہ جس سے اپنے گھر والوں کی ہر قسم کی جو ضروریات ہیں ان کو پورا کر سکے اپنی ہر خواہش کو پورا کر سکے

لیکن ہوتا وہی ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ کو منظور ہوتا ہے اللہ پاک جسے چاہے اس کے گھر میں رزق کی بارش کر دیں جسے چاہے اسے آزمائش میں ڈال دیں ہمیشہ صبر کیجئے اللہ پاک پر کامل یقین رکھئے اور انشاء اللہ تعالیٰ ایک نہ ایک دن آپ کی قسمت ضرور بدلے گی آج کا یہ عمل اگر آپ کرلیتے ہیں

تو انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے گھر میں رزق کی مال و دولت کی بارش ہونا شروع ہوجائے گی آپ نے یہ وظیفہ صبح اُٹھتے ساتھ ہی یعنی صبح خالی پیٹ آپ نے یہ عمل کرنا ہے

آپ نے فجر کی نماز سے پہلے یہ وظیفہ کرنا ہے آپ باوضو ہو جائیں اور اپنے ہاتھ میں ایک تسبیح پکڑ لیں آپ نے اللہ تبارک وتعالیٰ کو ایک سو ایک بار اس طرح سے پکارنا ہے کہ اللھم الرزقنی یعنی اے اللہ مجھے رزق دے آپ نے ایک سو ایک مرتبہ اللھم الرزقنی اس کا آپ نے ورد کرنا ہے حضور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اللہ پاک کو اس طرح سے پکارو گے

یعنی اے اللہ مجھے رزق دے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کہے گا کہ میں نے رزق دینے کا تجھے فیصلہ کردیا ہے تو جب بھی آپ پر کوئی بھی مالی پریشانی آجائے کسی مشکل پریشانی میں آپ پھنس جائیں کوئی بھی رزق کی تنگی جس کا آپ کو سامنا کر نا پڑ رہا ہو تو اللہ پاک کو ایسے پکارنا شروع کر دیجئے اللھم الرزقنی انشاء اللہ رزق کے جو غیبی دروازے ہیں وہ کھل جائیں گے رزق کی تنگی ختم ہوجائے گی

یہ خاص عمل اس کو آپ خود بھی کریں اور اپنے گھر والوں کوبھی اس کی تلقین کریں ۔

اپنے اعمال پر توجہ دیجئے حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔

خلیفہ دوئم سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں میں نے پڑھا ہے کہ آپ کبھی بدصورت اور برے نام والوں کو کام کا نہیں فرماتے تھے۔ایک دفعہ بوری اٹھوانے کے لیے راہ گیر کو آواز دی جب وہ قریب آیا تو پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ کہنے لگا میرا نام ظالم ہے۔فرمایا باپ کا؟ کہنے لگا سارق ہے۔

حضرت نے اس سے بوری نہیں اٹھوائ اور فرمایا۔جاؤ تم ظلم کرو اور تمہارا باپ چوری کرے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Leave a Comment