نماز فجر اور مغرب کے بعد صرف 2 لفظ پڑھیں۔

رزق کے تمام مسائل کے حل کے لئے ایک خاص اور مجرب عمل ہے اس عمل کو کرنے کی برکت سے رزق کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے اگر آپ بے روزگار ہیں اور روزگار کی تلاش میں ہیں تو اللہ کے فضل سے آپ کا یہ مسئلہ حل ہوجائے گا اگر آپ کے پاس جاب ہے مگر آپ کی تنخواہ کم ہے تو آپ کا گزارہ بڑی مشکل سے ہوتا ہے آپ جو بھی پیسے گھر لاتے ہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کہاں خرچ ہوگئے آپ کے گھر کے مالی حالات ٹھیک نہیں ہیں آپ کو رزق کی تنگی کا سامنا ہے گھر کی ضروریات پوری نہیں ہوتی اور آپ کو قرض لینا پڑ جاتا ہے اور آپ قرض کی رقم کا انتظام نہیں کر پارہے جس کی وجہ سے آپ بہت پریشان ہیں تو ان تمام مسائل کے حل کے لئے یہ خاص عمل ضرور کیجئے نہایت ہی پر تاثیر اور مختصر عمل ہے ۔غربت سے پریشان اور رزق میں کسادگی کے خواہش مند یا روزگار کی تلاش میں لوگ اور قرض دار قرض کی ادائیگی کے لئے یہ مختصر عمل نماز فجر اور مغرب کے بعد کریں ۔

اس عمل کے ساتھ آپ نے نماز کی پابندی لازمی کرنی ہے نمازِ فجر اور نماز مغرب کے بعد بلا ناغہ یہ مختصر عمل آپ نے کرنا ہے اپنا مقصد ذہن میں رکھ کر یقین کامل کے ساتھ اللہ پاک کے ان صفاتی ناموں کا ورد کرنا ہے یہ دو اسمائے مبارک ہیں یا اللہ یا باسط ان دونوں اسمائے مبارکہ کو نمازِ فجر کے بعد تین سو تیرہ مرتبہ اور نمازِ مغرب کے بعد بھی تین سے تیرہ مرتبہ اول آخر درود پاک تین پانچ یا سات مرتبہ پڑھنا ہے آپ کوئی سا بھی درود پاک پڑھ سکتے ہیں آپ یہ عمل کریں پھر اللہ رب العزت سے نہایت ہی عاجزی و انکساری کے ساتھ اپنے رزق میں برکت کے لئے حصول روزگار کے لئے اور قرض سے نجات کے لئے آپ دعا کریں تو انشاء اللہ عزوجل اللہ رب العزت ان تمام سائل کا حل فرمادیں گے آپ کے رزق میں بے حساب برکت عطا فرمادی جائے گی آپ کو روزگار کی تلاش ہے اللہ رب العزت آپ کو روزگار عطافرمادیں گے اگر آپ یہ عمل کرنا چاہ رہے ہو

تو اس عمل کی اجازت عام ہے ۔اس کے لئے کسی خاص اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہما کو چوما تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اُس وقت ایک صحابی اَقرع بن حابس تمیمی بھی بیٹھے ہوئے تھے (یہ دیکھ کر) وہ بولے: (یا رسول اﷲ!) میرے دس بیٹے ہیں میں نے تو کبھی اُن میں سے کسی کو نہیں چوما. اِس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس کی طرف دیکھ کر فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت حسین علیہ السلام کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا، تو عرض کیا: میرے دس بیٹے ہیں لیکن میں نے آج تک اُن میں سے کسی کے ساتھ بھی ایسا (پیار بھرا برتاؤ) نہیں کیا. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو

Leave a Comment