کیا حالتِ حمل میں طلاق ہو جاتی ہے اور اس کی عدت کتنی ہو گی

طلاق کے مختلف مسائل اگر کسی مرد نے عورت کو حمل کی حالت میں طلاق دی تو طلاق واقع ہو جائے گی ہاں یہ اور بات ہے کہ جب اس کو طلاق دی تو اس کی عدت اس وقت تک ہوگی جب تک کہ وہ اس کو بچہ پیدا نہ ہو۔ اس لیے اس شوہر کو پھر بیوی کو اس وقت تک دینا ہو گا جب تک کہ اس کا بچہ پیدا نہ ہو۔

ذہن نشین رہے کہ اگر حمل کی حالت میں عورت کو طلا ق دی تو تب بھی طلاق ہو جائے گی اسی طرح اگر عورت ایام سے تھی یعنی حیض کی حالت میں تھی اور مرد نے اس کو الفاظِ طلاق کہہ دئیے تب بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔

ایک مرد کو عورت کو بچہ پیدا ہونے کے بعد بچہ پیدا ہونے کے بعد ابھی یعنی سوا مہینے کے اندر اندر والی حالت میں تھی بلیڈنگ ہو تی ہے اس میں مرد کو اپنی عورت کو الفاظِ طلاق کہہ دئیے تو اس میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی تو گو یا اگر مرد نے عورت کو حالتِ نفاس میں بچہ پیدا ہونے کے بعد جب بلیڈ نگ ہوتی ہے یا حیض کی حالت میں طلاق دی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔

یہ اور بات ہے کہ ان حالتوں میں طلاق دینی نہیں چاہیے طلاق دینے کے صحیح طریقہ یہ ہے کہ حالتِ پاکی میں طہر کے زمانے میں مرد عورت کو طلاق دے۔ اسی طرح اگر مرد نے عورت کو طلاق دی اور اب مرد طلاق کا انکار کر تا ہے ۔

جب کہ بیوی نے اپنے کانوں سے سنا اور وہ اقرار کرتی ہے کہ اس کے شوہر نے اس کو طلاق دی تو یہاں کیا حکم ہو گا تو یہ شوہر کا انکار کر نا اللہ کے ہاں تو کچھ فائدہ نہیں دے گا اور اگر طلاق دے کر عورت سے اپنے تعلقات قائم رکھتا ہے تو بہر حال اس کو گناہ ملے گا تو گو یا ایسا ہی ہے جیسے وہ برا کام کر تا ہے

اب عورت کے لیے کیا حکم ہے کہ عورت کو چاہیے کہ اگر واقعی اس نے اپنے الفاظ اپنے شوہر کے الفاظ سن لیے اور وہ اقرار کر تی ہے کہ اس کے شوہر نے اسے الفاظِ طلاق کہے ہیں۔

تو وہ کسی بھی طرح اپنے مرد سے خلاصی حاصل کرنے کی کوشش کر ے۔ اپنے اوپر اس کو قابو نہ دے کوشش کر ے کہ وہ اس کے ساتھ تعلق قائم نہ رکھے اور اس کے بعد بھی اگر مرد زبردستی اس طرح کا عمل کرتا ہے تو پھر مرد گناہ گار ہے۔ اگر کسی نے زبردستی شوہر سے طلاق لکھوا دی اور اتنا اس کو مجبور کیا کہ اس کو اپنی جان کا خطر ہ تھا اور بہت مجبوری کی حالت میں الفاظ طلاق دئیے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔

لیکن اس وقت ہے کہ جب بالکل اپنی جان کو خطرہ تھا یا کوئی ایسا اندیشہ تھا جس میں اس کے ساتھ انتہائی درجے کی زبردستی کی تو تب طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اگر معمولی کسی کے دھمکانے سے یا ڈرانے سے اس نے الفاظ ِ طلاق دی تو اس صورت میں کوئی طلاق نہیں ہوگی ۔

Leave a Comment