خوشحال اور پرسکون زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ

اس کائنات کے اندر ہر انسان عزت لینا چاہتا ہے اس کائنات کے اندر ہر انسان شہرت لینا چاہتا ہے اس کائنات کے اندر ہر انسان مقام اور مرتبہ لینا چاہتا ہے حیثیت لینا چاہتا ہے ہر انسان سکون چین آرام راحت تسکین اطمینان لینا چاہتا ہے اس کائنات کے اندر ہر انسان صحت لینا چاہتا ہے تندرستی لینا چاہتا ہے اور اس کائنات کے اندر بسنے والے جتنے انسان ہیں ہر انسان اپنی زندگی میں خوشی لینا چاہتا ہے ۔ آخر یہ ساری چیزیں ہمیں کیسے میسر آسکتی ہیں ہمیں کیسے مل سکتی ہیں ہم جو چیز لینا چاہتے ہیں اس کے لئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے پیارے پیغمبر جناب محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے سے بتلایا گیا ہے کہ اس چیز کو حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے آج ہر شخص یہ ساری چیزیں لینا چاہتا ہے مگر وہ اس کو اپنے علم کے مطابق عقل کے مطابق شعور کے مطابق فہم کے مطابق اورجو اس کے پاس تجربات ہیں اس کے مطابق لینا چاہتا ہے جب کہ رب تعالیٰ ہمیں یہ ساری چیزیں پیارے پیغمبر جناب محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے سے دینا چاہتے ہیں

آج ہمارے معاشرے میں بگاڑ کب آیا جب ہم نے ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے عزت کو حاصل کرنے کے لئے مقام کو حاصل کرنے کے لئے مرتبے کو حاصل کرنے کے لئے تندرستی کو حاصل کرنے کے لئے اطمینان کو حاصل کرنے کے لئے خوشی کو حاصل کرنے کے لئے اس سکھ کو حاصل کرنے کے لئے ہم نے وہ راستے اپنا لئے جو ہماری عقل کے مطابق تھے جو ہماری سمجھ کے مطابق تھے اور انسان نے اس کے لئے اپنی ساری انرجی لگادی لیکن وہ ان چیزوں کو پانہیں سکا وہ ان چیزوں کو حاصل نہیں کرسکا اور آج ہر شخص ان چیزوں کو پانے کے لئے مارا مارا پھر رہا ہے یہ ساری کی ساری چیزیں ہم کیسے حاصل کرسکتے ہیں اس کے لئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن میں ایک معیار دیا اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہم نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا اسی مٹی میں ہم نے اس کو واپس لوٹایا اور کل قیامت کو ہم اس کو دوبارہ اٹھائیں گے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آدم ؑ کو مٹی سے پیدا فرمایا ہے آدمؑ کی ابتدا مٹی ہے اور ہم آدم کی اولاد ہیں اب اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں مٹی سے پیدا کر کے یہ بتلا دیا کہ یہ ساری چیزیں تم کیسے حاصل کر سکتے ہو رب تعالیٰ ہمارے اندر اس مٹی کی پراپرٹی کو پیدا کرنا چاہتا تھا

ہمارے اندر رب تعالیٰ اس مٹی کی پراپرٹی کو پیدا کرنا چاہتا ہے ہماری وہ خوبی ہمارے وہ اوصاف جو آج ہم نے اپنی زندگیوں سے نکال دیئے یہ ساری چیزیں ہمیں کیوں چاہئیں تھیں کیونکہ یہ ہمارا وصف تھا یہ ہمارا حق تھا عزت ہمارا حق ہے مقام ہمارا حق ہے مرتبہ ہمارا حق ہے سکون ہمارا حق ہے چین ہمارا حق ہے تسکین ہمارا حق ہے راحت ہمارا حق ہے خوشی ہمارا حق ہے لیکن آج جو ہمارا حق تھا کیوں حق تھا کیونکہ رب تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہم نے انسان کو سب سے بہترین تخلیق کیا ہم نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہم اشرف المخلوقات ہیں اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے رب تعالیٰ نے آدم ؑ نے ان فرشتوں کے ذریعے سجدہ کروا کر ہمیں یہ پیغام دیا کہ اس کائنات میں تم سب سے بہترین ہو اور تمہارا یہ بہترین ہونا تمہارا حق ہے لیکن افسوس ہم نے اپنے اس اصل حق کو مقام کو مرتبے کو حیثیت کو اپنے آپ سے دور کردیا وہ حق کیا تھا اور کیسے ملنا تھا اب ہم سے وہ دور جا چکا ہے ۔ ہم مٹی ہیں مٹی میں واپس لوٹنا ہے مٹی سے کل اٹھایاجانا ہے اورہمارے لئے رب تعالیٰ نے اس مٹی کی باڈی کو جو طاقت دینی تھی قوت دینی تھی اس کے لئے بھی جتنی چیزوں کا انتخاب کیا وہ بی ساری مٹی میں رکھیں ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment