خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ ؓ کا نکاح تین مشہور روائتیں

ہجرتِ مدینہ کے وقت سید ہ فاطمہ ؓ سن بلوغط کو پہنچ چکی تھیں ایک روایت کے مطا بق ان کے ہجرت ِ مدینہ کے کچھ عرصہ بعد حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے رسو لِ مکرم حضرت محمد ﷺ سے حضرت فاطمہ ؓ سے نکاح کرنے کی درخواست کی حضور ﷺ خاموش رہے ۔ یا بعض روایتوں کے مطا بق فر ما یا ابو بکر حکمِ الٰہی کا انتظار کرو۔ علامہ برادری نے حضور ِ اکرم ﷺ سے یہ الفاظ بھی منسوب کیے ہیں کہ اس سلسلہ میں مجھے اللہ کے فیصلے کا انتظار ہے اس کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ نے بھی سیدہ فاطمہ ؓ کے لیے پیغامِ نکاح بھیجا۔ حضور پر نور ﷺ نے انہیں بھی یہی جواب دیا ۔ چند دن بعد حضور ِ اقدس ﷺ نے سیدہ فاطمہ ؓ کی نسبت شیرِ خدا حضرت علی ؓ سے کر دی یہ نسبت کیسے قرار پائی اس کے متعلق تین مشہور وایات یہ ہیں: پہلی روایت یہ ہے کہ ایک دن حضرات ابو بکر صدیق ؓ عمر فاروق ؓ اور سعد ؓ بن ابی وقاص نے مشورہ کیا کہ حضرت فاطمہ ؓ کے لیے کئی پیغام حضور پر نور ﷺ کو پہنچے ہیں۔

لیکن آپ ﷺ نے کوئی بھی منظور نہیں فر ما یا اب حضرت علی ؓ باقی ہیں جو نبی مکرم ﷺ کے جان نسار اور محبوب بھی ہیں اور ہم ذات بھی معلوم ہوتا ہے کہ فقر و تنگدستی کی وجہ سے وہ فاطمہ ؓ کے لیے پیغامِ نکاح نہیں دیتے۔ کیوں نہ انہیں پیغام بھیجنے کی تر غیب دی جائے اور ضرورت ہو تو ان کی مدد بھی کی جا ئے ۔ تینوں حضرات یہ مشورہ کر کے حضرت علی ؓ کو ڈھنڈنے نکلے وہ جنگل میں اپنے اونٹ چرا رہے تھے تینوں بزرگوں نے بڑے خلوص کے ساتھ حضرت علی ؓ کو سیدہ فاطمۃ الزاہرہ ؓ کے لیے پیغامِ نکاح بھیجنے کی ترغیب دی انہیں اپنی بے سر و سا مانی کی بناء پر ایسا کرنے میں تعمل ہو ا مگر ان حضرات ؓ کے مجبور کر نے پر آمادہ ہو گئے دلی خواہش تو ان کی بھی یہی تھی لیکن فطری حیاء پیغام بھیجنے میں آڑے آرہی تھی اب جرات کر کے حضور ِ اقدس ﷺ کو پیغامِ نکاح بھیج دیا حضور پر نورﷺ نے ان کی استدعا فوراً قبول فر ما لی پھر حضور نبی کریم ﷺ نے حضر ت فاطمۃ الزاہرہؓ سے اس کا ذکر کیا انہوں نے زبانی خاموشی اپنی رضامندی کا اظہار کر دیا۔

حضور پر نور ﷺ کا یہ معمول تھا کہ آپ ﷺ جب اپنی کسی صاحبزادی کا نکاح کر نا چاہتے تو ان کے پاس تشریف لے جاتے اور بلند آواز سے فر ما تے ۔ فلاں شخص نے تمہارے لیے نکاح کا پیغام دیا ہے۔ اس ارشاد کے جواب میں اگر وہ خاموش رہتی تو آپ ﷺ سمجھ لیتے کہ لڑکی رضا مند ہے۔ حضرت فاطمہ ؓ کی رضا مند ی بھی آپ ﷺ نے اسی طرح معلوم کی ۔ اسی بنا ء پر کہ جب علی بالغہ لڑکی کا نکاح کر نا چاہے تو اس سے اجازت لے لے اور حسبِ ارشاد نبوی ﷺ کنواری لڑکی کا سکوت با منزلہ رضامندی یا اجازت کے ہو تا ہے۔

دوسری روایت یہ ہے کہ انصار مہاجرین کی ایک جماعت نے حضرت علی ؓ کو حضرت فاطمہ ؓ کے لیے پیغام بھیجنے کی ترغیب تھی بعض روایتوں میں صرف انصار کا ذکر ہے اور بعض میں انصار کے سا تھ مہا جر ین کا ہونا بھی بیان کیا گیا ہے البتہ بعض اہلِ سیر نے یہ تخصیص کی ہے یہ مہا جر ین بنو ہاشم سے تعلق رکھتے تھے اس جماعت کے کہنے پر حضرت علی ؓ حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حرفِ مداء زبان پر لائے حضور پاک ﷺ نے خاموش ہو گئے صحابہ کی جماعت باہر منتظر تھی۔ حضر ت علی ؓ انہیں حضورِ اقدس ﷺ کا جواب سنا یا انہوں نے حضرت علی ؓ کو مبارک باد دی کہ حضور ﷺ نے آپ ؓ کا پیغام منظور فر ما دیا ہے۔

Leave a Comment