گھر سے نکلتے وقت سورۃ التوبہ کی یہ ایک آیت پڑھ لیا کریں۔

اس تحریر میں گھر سے نکلتے وقت سورۃ التوبہ کی آخری ایک آیت کا وظیفہ پیش کیاجارہا ہے انشاء اللہ ہر مقصد میں کامیابی ہوگی۔ جب بھی گھر سے کسی خاص مقصد کے لئے نکلنے لگیں تو سب سے پہلے آپ نے دو رکعت نماز صلوٰۃ الحاجت ادا کرنی ہے اس کے بعد ستر مرتبہ سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 149 ایک مرتبہ پڑھ کر اپنے مقصد کے لئے دعا مانگنی ہے انشاء اللہ آپ جس کام کے لئے بھی گھر سے نکلیں گے اس کام میں کامیابی ملے گی فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے بنائے ہیں جن میں سے اُس نے ننانوے حصے اپنے پاس رکھ لئے اور ایک حصہ زمین پر نازل کیا۔ ساری مخلوق جو ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے یہ اُسی ایک حصے کی وجہ سے ہے، یہاں تک کہ گھوڑا جو اپنے بچے کے اُوپر سے اپنا پاؤں اُٹھاتا ہے

کہ کہیں اُسے تکلیف نہ پہنچے وہ بھی اسی ایک حصے کے باعث ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں اُس نے اُن میں سے ایک رحمت جن، انس، حیوانات اور حشرات الارض کے درمیان نازل کی ہے جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر شفقت و رحم کرتے ہیں، اور اُسی سے وحشی جانور اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں (اپنے پاس) محفوظ رکھی ہیں، جن کے سبب قیامت کے دن وہ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک اعرابی نے (کہیں سے) آکر اپنے اونٹ کو بٹھایا پھر اُسے ٹانگ سے باندھ کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے چلا گیا، جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے

تو اُس نے اپنے اونٹ کے پاس آکر اس کی رسی کو کھولا۔ پھر اُس پر سوار ہو کر دعا کرنے لگا: یا اللہ! تو مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحم فرما اور ہماری رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ سن کر صحابہ سے) فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اُس کا اونٹ؟ کیا تم نے سنا نہیں کہ اُس نے کیا کہا؟ اُنہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (یا رسول اللہ! ہم نے سنا ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اُس اعرابی سے) فرمایا: تُو نے (اللہ تعالیٰ کی رحمت کو) تنگ کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے، اللہ تعالیٰ نے کل سو رحمتوں کو تخلیق کیا جن میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک رحمت (زمین پر) اُتاری، مخلوقات میں سے جن و انس اور بہائم (درندے) اُسی کی وجہ سے باہم شفقت و مہربانی کرتے ہیں جبکہ ننانوے رحمتیں اُس کے پاس ہیں۔ اب تم کیا کہتے ہو کہ یہ زیادہ گمراہ ہے (جسے رحمتِ الٰہی کی وسعت کا علم نہیں) یا اُس کا اونٹ (جو اس کے ماتحت ہے)۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Leave a Comment