صرف دو تسبیحات کے دانے پھیریں اور دن بھر جائیں فاقے ختم جھگڑے ختم

سورہ اخلاص دو تسبیح زندگی کا معمول بنا لیں اس کو تو کبھی نہ چھوڑیں ۔دو تسبیح زندگی کا معمول بنا لیجئے اس کو کبھی بھی نہ چھوڑیں اس کا فائدہ کیا ہوگا ؟اس کا ایک انوکھا فائدہ ہوگا اللہ پاک نور کی برکت سے اعمال کی برکت سے نسلوں میں نور اور خیریں عطافرماتے ہیں پھر نسلوں میں وہ نور چلتا ہے نسلوں میں وہ برکتیں چلتی ہیں

بعض اوقات دوسری نسل میں بعض اوقات تیسری نسل میں اور بعض اوقات اسی نسل میں عرض کررہا تھا کہ اپنی زندگی میں اپنی زندگی میں ا اس نور کی روشنی کو ساتھ لے کر چلیں دو تسبیح سورت اخلاص کی تو زندگی میں نہ چھوڑیں سفر میں جارہے ہیں حضر میں جارہے ہیں پیدل چلتے پڑھ لیں گاڑی میں بیٹھے پڑ ھ لیں کہیں دفتر میں بیٹھ کر پڑھ لیں

مجبورا وضو نہیں تو بھی پڑھ لیں پر چھوڑیں نہیں کیوں آپ کی زندگی میں اس کا نور نسلوں میں منتقل ہوگا اور اس کا نور نسلوں میں جائے گا اور نسلوں میں رزق دولت عزت کے اللہ دروازے کھول کے دکھائے گا۔

حدیث پاک کا مفہوم ہےکہ جمعہ کے دن کو باقی دنوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسا کہ رمضان المبارک کو باقی دنوں پر یہی وجہ ہے کہ جمعہ کے دن سے بہت سے وظائف منسلک ہیں ظاہر بات ہے کہ جتنے مبارک اوقات ہوں گے ان میں کئے گئے اعمال بھی اتنی ہی برکت و فضیلت والے ہوں گے سورہ اخلاص بڑی فضیلت کی حامل ہے اسے نبی کریم نے ثلث القرآ ن یعنی ایک تہائی قرآن قرار دیا ہے اور اسے رارت کو سونے سے پہلے پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے

یہ چار آیات پر مشتمل مختصر سورت ہے جو اپنے اندر بے شمار فضائل لئے ہوئے ہے جو احادیث نبویہ سے ثابت ہے ۔اس تحریر میں ان فضائل کے بارے میں بتایا جارہا ہے اور ساتھ میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ اس سورت کا آپ جمعہ کے دن کیا وظیفہ کر سکتے ہیں اور یہ وظیفہ آپ نے کیسے کرنا ہے ۔

ترمذی حاکم وغیرہ کی روایات میں ہے کہ مشرکین مکہ نے رسول اللہ سے اللہ تعالیٰ کا نسب پوچھا تھا ان کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی بعض روایات مین ہےکہ مشرکین کے سوال میں یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کس چیزکا بناہوا ہے سونے چاندی یا کسی اور چیز کا ان کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی یاد رہے کہ احادیث کے اندر اس سورت کے بے شمارفضائل بتائے گئے ہیں ان میں سے چند فضائل یہ ہیں

ترمذی نے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ نے لوگوں سے فرمایا کہ سب جمع ہوجاؤ میں تمہیں تہائی قرآن سناؤں گا جو جمع ہوسکتے تھے جمع ہوگئے تو آپ تشریف لائے اور قل ھواللہ احد یعنی سورہ اخلاص کی تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے

بروایت مسلم ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ہر رات جب بستر پر تشریف لاتے تو قل ھو اللہ احد اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ کر اپنی دونوں ہتھیلیوںپر پھونک کر سر اور چہرے سے شروع کر کے اپنے جسم پر جہاں تک ہاتھ جاتا تین بار پھیر تے عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی نے ایک شخص کو لشکرکا امیر بناکر بھیجا تو وہ اپنے لشکر والوں کو نماز پڑھاتا اور اس میں ہر رکعت میں سورہ اخلاص پڑھتا

جب وہ واپس پلٹے تو انہوں نے اس کا ذکر نبی سے کیا نبی فرمانے لگے اس سے پوچھو کہ یہ کام وہ کسی لئے کرتا تھا انہوں نےاس سے پوچھا تو اس نے جواب دیا اس لئے کہ یہ رحمن کی صفت ہے اور میں اسے پڑھنا پسند کرتاہوں تو نبی فرمانے لگے کہ اسے یہ بتا دو کہ اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے ۔ وظیفہ اس کا یہ ہے کہ ہر جمعہ کو جمعہ کے بعد اس سورت کا جتنا زیادہ ہوسکے ورد کیا جائے

اول و آخر درودپاک گیارہ مرتبہ ضرور پڑھا جائے اور پھر اللہ تعالیٰ سے رو رو کر گڑگڑا کر عاجز ی وانکساری سے دعا کیجئے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین