اگر بینک میں ملازمت جائز نہیں تو کیا سیکو رٹی گارڈ کی تنخواہ حرام ہے یا حلال

بینک میں وہ نوکری حرام ہے جس میں سودی حساب وکتاب لکھنے دیکھنے، چیک کرنے، اور لینے دینے کا کام کرنا پڑتا ہو، اگر کوئی پہرہ دار ہے، چپراسی ہے، تعمیرات کا، فرنیچر کا کام کوئی کرتا ہے تو اس کے لیے گنجائش ہے، اگرچہ بہتر نہیں ہے۔ رہا مسئلہ بینک میں پیسوں کے جمع کرنے کا تو اس کی اجازت علماء نے محض اس لیے دی ہے کہ آج کے دور میں چوری، ڈکیتی، بے ایمانی بداعتمادی اس درجہ بڑھ گئی ہے

کسی کے باس بھی امانت رکھنا مشکل اور انتہائی دشوار ہوگیا ہے اس مجبوری کی وجہ سے صرف بغرض حفاظت بینک میں جمع کرنے کی اجازت ہے ”الضرورات تبیح المحظورات“ سود لینے کی نیت سے بینک میں جمع کرنا اب بھی حرام وناجائز ہی کا حکم ہے۔

حفاظت کے لیے رکھنے میں جو سود ملے اس کو بلانیت ثواب غریبوں محتاجوں کو صدقہ کردینا ضروری ہے، اسے اپنے استعمال میں لانا ہرگز جائز نہیں۔ بینک سودی معیشت کے بنیادی ادارے ہیں جن میں کام کرنا بلاشبہ کراہت سے خالی نہیں، تاہم بینک میں سکیورٹی گارڈ، خانساماں، آفس بوائے، صفائی کرنے والا عملہ اور دیگر ایسے شعبے جن کا تعلق حساب کتاب سے نہیں ہے ان کی ملازمت جائز ہے۔

آپ بھی اپنی ملازمت جاری رکھ سکتے ہیں، بینک میں‌ سکیورٹی گارڈ کی نوکری کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کسی بھی معاوضہ کے جائزوناجائز ہونے کا مدارکسب وعمل کے جائزوناجائزہونے پر ہو تا ہے، مروجہ اسلامی بینکوں کا طریقۂ تمویل چونکہ جمہور اہلِ فتویٰ کے نزدیک اسلامی اور غیر سودی نہیں ہے، بلکہ کئی سودی اور غیری اسلامی معاملات پر مشتمل ہے۔

لہٰذا ایسے اداروں میں ملازمت اختیار کرنا بھی شرعاً جائز نہیں ہو سکتا، اور اس کی تنخواہ بھی حلال نہیں ہو سکتی. لہٰذا آپ ایسے بینک سے فوراً علیحدہ ہو نے کی بھر پور کوشش کریں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو اس کے تقویٰ و خشیت کی وجہ سے کسی غلط کام سے باز آتا ہے تو اس کے لئے بہتری و بھلائی کے راستے میسر آجاتے ہیں۔

آپ کو چاہیے کہ ایک بے روزگار کی حیثیت سےمتبادل ملازمت کے لئے کو شش کرتے رہیں، جوں ہی جائز ملازمت میسر آجائے بینک کی ملازمت فورا چھوڑ دیں، جب تک نوکری نہیں مل پاتی، اور آپ کے لئے چھوڑنا مشکل ہو اور آپ کا کوئی ذریعہ معاش بھی نہ ہو تو ناجائز سمجھتے ہوئے مذکورہ بینک سے ملازمت و معاوضہ کا تعلق رکھنے کی گنجائش ہے۔

مگر ساتھ ہی تو بہ و استغفار بھی کرتے رہیں اور استطاعت ہونے پر اس عرصہ میں بینک سے حاصل شدہ مراعات کے بقدر صدقہ بھی کردیں۔ امید ہے اللہ تعالیٰ بخشش فرمادیں گے۔.اللہ تعالیٰ سے یہی دعاء اور امید رکھیں کہ آپ کا حج مقبول ہو گا۔ ان شاء اللہ.

بینک کی تنخواہ کی طرح بونس بھی جائز نہیں ہے بینک کا حرام کام:جیسے وہ کام جو سودی معاملات سے تعلق رکھتاہے جیسے سودی معاملات کے دستورکو جاری کرنے کی ذمہ داری لینا، دستاویز آمادہ کرنا اور ان پر گواہ معین کرنا اور فائدہ اٹھانے والے سود کی اضافی رقم لینا وغیرہ ہے۔