ایک فقیر نے مالدار آدمی سے کہا

ایک فقیر نے مالدار آدمی سے کہا:اگر مجهے تمہارے گھر میں موت آجائے، تو تم میرے ساتھ کیا سلوک کرو گے؟مالدار آدمی: تمہیں کفن دیکر دفنا دوں گا-فقیر بولا: ابهی میں زندہ ہوں’ مجهے پہننے کے لیے کپڑے دے دو اور جب مرجاوں تو بغیر کفن کے مجهے دفنا دینا.

یہ ہم لوگوں میں سے بہت سے افراد کی داستان ہے کہ جب تک ہم زندہ ہیں ایک دوسرے کی قدر نہیں کرتے لیکن مرنے کے بعد ایک دوسرے کے لئے آگے بڑھ بڑھ کر نیکیاں کرنے لگتے ہیں اگر قدر کرنا ہے تو زندگی میں کرو امام محمد بن سیرین و خِلاس دونوں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں

کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی سو رحمتیں ہیں جن میں سے اس نے ایک رحمت کو اہلِ دنیا کے درمیان تقسیم کردیا پس وہ اُن کی اموات تک انہیں اپنے احاطہ میں لئے رہے گی جبکہ ننانوے رحمتوں کو اس نے اپنے اولیاء کے لئے محفوظ کر لیا ہے۔

اللہ تعالیٰ اہلِ دنیا پر تقسیم کی جانے والی رحمت اور باقی ننانوے کو اپنے قبضہ میں لینے والا ہے۔ پھر قیامت کے دن وہ اُن سو رحمتوں کی اپنے اولیاء پر تکمیل کرے گا۔حضرت معاویہ بن حَیدَہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتوں کو تخلیق کیا، پس ایک رحمت مخلوق کے درمیان تقسیم کر دی جس کے باعث وہ باہم رحم کرتے ہیں

جبکہ ننانوے رحمتوں کو اپنے اولیاء (کی شفاعت) کے لئے محفوظ کر لیا۔حضرت حسن بصری فرماتے ہیں: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سو رحمتوں کا مالک ہے، اُس نے (اُن میں سے) ایک رحمت کو جمیع اہلِ زمین کے درمیان تقسیم کر دیا جو اُن کی اموات تک انہیں اپنے احاطہ میں لئے رہے گی

جبکہ اس نے باقی ننانوے رحمتوں کو اپنے اولیاء کے لئے ذخیرہ کر لیا۔ اللہ تعالیٰ اہلِ دنیا پر تقسیم ہونے والی رحمت اور (باقی) ننانوے رحمتوں کو اپنے قبضے میں کرنے والا ہے.

پھر وہ قیامت کے دن اپنے اولیاء پر اِن سو رحمتوں کی تکمیل کرے گا (اور ان رحمتوں کے باعث انہیں اعلیٰ و ارفع مقامات اور حقِ شفاعت سے نوازے گا)۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں ایک رحمت اپنی مخلوق کے درمیان رکھی جس سے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں جبکہ ننانوے رحمتیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے رب نے اپنی رحمت کو سو اجزاء میں تقسیم کیا پھر ان میں سے ایک جزو کو زمین پر اُتارا۔ یہی وہ جزوِ رحمت ہے جس کی وجہ سے انسان، پرندے اور درندے باہم شفقت و رحمت کرتے ہیں، باقی ننانوے رحمتیں اس کے پاس قیامت کے دن اپنے بندوں کے لئے محفوظ ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین