بادشاہ پر حضرت لقمانؑ کی خوبیاں واضح ہوگئی تھیں

حضرت لقمانؒ کی قدرو منزل آپ ؒکے آقا کے دل میں بیٹھ گئی۔ بادشاہ پر حضرت لقمانؒ کی خوبیاں واضح ہوگئی تھیں۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ غلام حرص و ہوس سے پاک صاف ہیں، آپ ؒکے دل میں کھوٹ نہیں اور زبان پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں آتا۔ بظاہر وہ بادشاہ حضرت لقمان ؒکا آقا تھا، لیکن حقیقت میں وہ آپ ؒ کا غلام ہوگیا تھا۔

اسے حضرت لقمانؒ سے یہاں تک تعلق ہو گیا تھا کہ جب نوکر چاکر کھانا لے کر آتے تو وہ سب سے پہلے حضرت لقمانؒ کی خدمت میں پیش کرتا تاکہ آپ ؒ کھائیں اور جو کھانا بچ جاتا، وہ خوش ہو کر کھاتا تھا۔ اگر کبھی حضرت لقمان ؒکھانا نہ کھاتے تو بادشاہ بھی نہ کھاتا۔ایک دفعہ بادشاہ کے کسی دوست نے اپنے باغ میں سے ایک بڑا ہی خوش رنگ خربوزہ اس کو تحفے میں بھیجا۔

بادشاہ نے ایک غلام سے کہا کہ جائو اور میرے بیٹے لقمان کو بلا لائو۔ بادشاہ کا حکم پاتے ہی حضرت لقمان ؒآئے اور ادب سے بادشاہ کے سامنے بیٹھ گئے۔ بادشاہ نے ہاتھ میں چھری پکڑی اور خربوزہ کاٹ کر ایک قاش حضرت لقمانؒ کو پیش کی۔

انہوں نے مزے سے وہ قاش کھائی۔ بادشاہ نے دوسری قاش کاٹ کر انہیں دی۔ وہ بھی آپؒ نے نہایت رغبت سے کھائی۔ پھر اس نے تیسری قاش کاٹی۔ پھر چوتھی یہاںتک کہ بادشاہ نے سترہ قاشیں کاٹ کر دیں اور انہوں نے ہر قاش بڑی رغبت سے کھائی۔ آخر میں جب ایک قاش باقی رہ گئی۔ بادشاہ نے کہا جی چاہتا ہے ،یہ قاش میں خود کھائوں۔ لگتا ہے خربوزہ بہت میٹھا ہے، جبھی آپ ؒنے سترہ قاشیں اتنے مزے لے لے کر کھائی ہیں۔

حضرت لقمان نے وہ آخری قاش بھی کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ لیکن بادشاہ نے نہ دی اور اپنے منہ میں رکھ لی۔ قاش کا منہ میں رکھنے کی دیر تھی کہ سارا منہ حلق تک کڑوا ہوگیا۔ اس نے جلدی سے وہ قاش تھوک دی اور پانی منگا کر خوب کلیاں کیں، لیکن دیر تک اس کی کڑواہٹ نہ مٹی اور منہ کا سارا مزا خراب ہوگیا۔

اس نے نہایت تعجب سے حضرت لقمانؒ کی طرف دیکھا اور کہا : اے عزیز فرزند! آپؒ نے کمال کیا کہ یہ زہریلا خربوزہ اتنے شوق و رغبت سے کھا گئے اور اپنے چہرے سے ذرا ناگواری ظاہر نہ ہونے دی کہ اس کی خوش رنگی اور خوش نمائی محض فریب ہے۔ کیا یہ بھی برداشت کی کوئی نرالی قسم ہے؟ حیرت ہے کہ تو نے کوئی حیلہ اس کڑوے خربوزے سے محفوظ رہنے کا نہ پیش کیا۔

اتنا ہی اشارہ کر دیا ہوتا کہ یہ ناپسندیدہ ہے اور میں اس کے کھانے سے معذور ہوں۔ حضرت لقمان ؒنے جواب دیا۔ کچھ کہتے ہوئے حیا آتی ہے۔ میں نے ہمیشہ آپ کے ہاتھ سے اتنا کھایا ہے کہ گردن نہیں اٹھا سکتا۔ یہ سوچ کر کڑوی قاشیں کھائیں کہ جب تمام عمر اس ہاتھ سے طرح طرح کی لذیذ نعمتیں کھاتا رہا ہوں تو افسوس ہے مجھ پر کہ صرف ایک کڑوا خربوزہ کھا کر اُودھم مچانے لگوں ۔

حقیقت یہ ہے کہ تیرے میٹھے ہاتھ نے اس خربوزے میں کڑواہٹ چھوڑی ہی کہاں تھی کہ میں شکایت اپنی زبان پر لاتا۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment