قربت کے تعلق سے ہر سوال کا جواب میاں بیوی قربت کیسے کریں کہ گ۔ناہ نہ ہو

میاں بیوی کے تعلق کے ایسے مسائل جن کو جاننا ضروری ہے ۔ امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ قربت کرنا جنت کی لذتوں میں سے ایک ل۔ذت ہے حضرت جنید بغدادی ؒ فرماتے ہیں کہ انسان کو قربت کی ایسی ضرورت ہے جیسے خوراک کی ۔ کیونکہ بیوی طہارت کا سبب ہے ۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ جس طرح ح.رام قربت پر گ۔ناہ ہے اس طرح جائز قربت پر نیکیاں ہیں۔

حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کوئی مرد اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑتا ہے

اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے جب اس کے گلے میں ہاتھ ڈالتا ہے تو دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں جب قربت کرتا ہے تو دنیا ومہفا سے بہتر ہوجاتا ہے ۔جب ج.ن.ابت کرتا ہے تو پانی جس جس بال پر سے گزرتا ہے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی لکھی جاتی ہے ایک گ۔ناہ کم ہوجاتا ہے ایک درجہ بلند ہوجاتا ہے ۔

حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے ایک شخص نے عرض کیا میں نے جس لڑکی سے شادی کی ہے مجھے لگتا ہے وہ مجھے پسند نہیں کرے گی ۔ آپ فرماتے ہیں کہ محبت خدا کی طرف سے ہوتی اور نفرت شیط۔ان کی طرف سے ہوتی ہے۔ ایسا کرو جب تم پہلی بار اس کے پاس جاؤ دونوں وضو کرواور رکعت نفل شک۔رانہ پڑھو اس طرح پڑھو کے تم امام ہو اور وہ تمہاری اقت۔دا کرے انشاء اللہ تم اس سے محبت وفا کرنے والی پاؤ گے ۔

میاں بیوی کے درمیان محبت قائم ہوگی۔ قربت کے وقت بسم اللہ پڑھنا سنت ہے اور یہ دعا پڑھیے اے اللہ ہمیں شیط۔ان سے بچا ۔مگر یاد رکھیں سطر کھولنے سے پہلے پڑھیں۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ جب کمرے میں داخل ہوں تبھی بسم اللہ شریف پڑھ کر دائیاں قدم داخل کریں۔ اگر آپ ہمیشہ ایسا کرتے رہیں گے ۔تو شیط۔ان کمرے سے باہر ہی ٹھ۔ہر جائیگا ۔

وہ آپ کیساتھ شریک نہیں ہوگا۔عورت کے اندر مرد کے مقابلے میں سوگ۔نا زیادہ شہ۔وت ہوتی ہے ۔مگر اس پر حیاء کو مسلط کردیا گیا ہے ۔ اگر مرد جلدی فارغ ہوجائے تو فوراً اپنی بیوی سے جد ا نہ ہوں۔

بلکہ کچھ دیر ٹھہریں اور پھر الگ ہو ۔ قربت کے وقت کسی اور کا تصور کرنا بھی زن ا ہے قربت کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں ہے اتنا خیال رکھیں نماز فوت نہ ہوپائے ۔ کیونکہ بیوی سے نماز روزہ اعتکاف حیض نفاذ اور نماز کے ایسے وقت میں قربت کرنا نماز کا وقت نکل جائے حرام ہے ۔ مرد کا اپنی عورت کی چھ۔اتی کو منہ لگانا جائز ہے مگر اس طرح کہ دودھ حلق سے نیچے نہ اترے یہ حرام ہے۔

ایسا ہوبھی گیا تو توبہ کرے مگر اس سے نکاح پر کوئی فرق نہیں ہوتا ۔مرد وعورت کو ایک دوسرے کا سطر دیکھنا جائز ہے ۔مگر حکم یہی ہے کہ مقام مخصوص کی طرف نا دیکھا جائے ۔ اس سے نگاہ کمزور ہوجاتی ہے ۔ فراغت کے بعد مرد وعورت کو الگ الگ کپڑے سے اپنا سطر صاف کرنا چاہیے ۔ دونوں اگر ایک ہی کپڑا استعمال کریں گے یہ نف۔رت اور جدائی کا سبب ہے ۔