چہرے کی شادابی کے لئے زبر دست آزمودہ نسخہ

ایک کوبانی لیجئے اگر تازہ نہ ملے تو خوبانی رات کو پانی میں بھگو دیجئے جب نرم پڑھ جائے تو اس کو اچھی طرح کچل لیجئے اس میں چائے کا ایک چمچ شہد ملا لیجئے اب اس آمیزے کو چہرے پر لیپ کر لیجئے جب خشک ہوجائے تو اتار دیجئے ۔فوائد: چہرے کے بالوں کی جڑوں کو کمزور کرتا ہے ۔ وہ خود بخود گرنے لگتے ہیں اس کے علاوہ چکناہٹ فراہم کرتا ہے اور چہرہ نکھر جتا ہے۔چہرہ شاداب رہتا ہے چہرے پر جھریاں نہیں پڑتی ۔

یہ عمل ہفتے میں تین دن باقاعدگی سے استعمال کیجئے انشاء اللہ ایک ہفتے میں نمایا ں فرق محسوس ہوگا۔خوبصورت چہرہ اللہ سبحانہ وتعالی کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔ایسے چہرے جو خوبصورت ہوں لوگ فطرتا ان کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ان سے ملاقات اور گفتگو کر کے خوش ہوتے ہیں۔ان کے پاس بیٹھنا دلی سکون کا باعث بنتا ہے۔

خوبصورت چہرے میں اللہ سبحانہ وتعالی نے ایسی کشش رکھی ہے کی لوگ خود بخود اسکی محبت میں مگن ہو جاتے ہیں۔دل بہانے تلاش کرتا ہے اس خوبرو کو ملنے کے۔میں ایک کتاب کے مطالعہ میں مصروف تھا تو ایک حدیث پڑھ کر چونک گیا کہ میرے پیارے نبی کیا ہی فطرت شناس تھے۔

امام احمد نے فضائل الصحابہ میں ایک حدیث روایت کی ہے جسکی راویہ سیدہ عائشہ صدیقہ ام المؤمنین سلام اللہ علیھا ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اطلبوا الحوائج عند حسان الوجوہ۔ترجمہ۔اپنی ضرورتیں خوبصورت چہرے والوں سے طلب کرو۔خلیفہ دوئم سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں میں نے پڑھا ہے کہ آپ کبھی بدصورت اور برے نام والوں کو کام کا نہیں فرماتے تھے۔

ایک دفعہ بوری اٹھوانے کے لیے راہ گیر کو آواز دی جب وہ قریب آیا تو پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ کہنے لگا میرا نام ظالم ہے۔فرمایا باپ کا؟ کہنے لگا سارق ہے۔حضرت نے اس سے بوری نہیں اٹھوائ اور فرمایا۔جاؤ تم ظلم کرو اور تمہارا باپ چوری کرے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے۔اسی طرح کا ایک واقعہ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا میرے مطالعہ سے گزرا۔

امام شافعی علم قیافہ کے بہت ہی ماہر تھے خود بہت خوبصورت تھے اس لیے بد صورت لوگوں سے آپکی جان جاتی تھی۔ایک سفر میں تھے کہ جنگل میں شام ہوگئی۔ایک دہقان کی جھونپڑی نظر آئی۔وہاں گئے دیکھا کسان بہت ہی بد صورت اور مکروہ شکل تھا۔

آپ بہت پریشان ہوئے لیکن کیا کرتے مجبوری میں رات گزارنے کے لیے خاموشی اختیار کی۔کسان خلاف توقع بہت محبت سے پیش آیا۔اس نے آپکی بہت مہمان نوازی اور مدارت کی۔امام رات بھر اس تفکر میں رہے کہ اسکو تو بہت خبیث ہونا چاہیے تھا یہ ایسا متواضع اور محبت والا کیوں ہے۔جب صبح ہوئ تو کسان بڑے راستے تک الوداع کہنے کے لیے گیا۔

الوداع کرنے سے پہلے کہنے لگا۔حضرت آپکی طرف ایک سو دس درہم بنتے ہیں۔آپ نے پوچھا وہ کیسے؟ کہنے لگا روٹی کے پچاس پانی کے دس چارپائی کے دس بستر کے دس مصلے کے دس اور ہاتھ پاؤں دابنے کے بیس یہ کل 110درہم بنتے ہیں۔امام نے فورا وہ رقم ادا کر دی اور فرمایا شکر ہے میرا علم تو تباہی سے بچ گیا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment