یہ دو کلمے اللہ کو بہت پسند ہیں اور کرنے والا بھی

ایک صحابی نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کلمتان دو کلمے ایسے ہیں دو باتیں ایسی ہیں اس کا معنی ہے کلامان دو کلام ایسے ہیں ہم کئی مرتبہ لفظ کو بھی کلمہ کہتے ہیں اور کئی مرتبہ پورے فقرے کو کلمہ کہہ دیتے ہیں جیسے کلمہ طیبہ کلمہ شہادت پورا فقرہ ہے لیکن کلمے کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو کلمتان ہوتا ہے

کلامان دو باتیں ایسی ہیں دو کلام ایسے ہیں پھر نبی ﷺ نے فرمایا حبیبتان الی الرحمن حبیبتان کا مطلب ہے محبوبتان لِلّٰہِ تعالیٰ جو ان کو پڑھے گا وہ اللہ کو بڑا پیارا ہوگا کتنی خوبصورت بات ہے کوئی بھی آپ کو بتائے دو باتیں ہیں جو اللہ کو بڑی پیاری لگتی ہیں توسنتے ہیں بندے کا دل کہتا ہے کہ مجھے بتائیں میں اس کو پڑھتا ہوں

یہ بات کا انداز ہے کہ نبی ﷺ نے شروع میں وہ باتیں نہیں بتائیں بلکہ ان کے فضائل سنا کر سامعین کو ترغیب دی ان کے دل میں شوق بڑھایا تو پہلی بات فرمائی کلمتان دو باتیں ایسی ہیں حبیبتان الی الرحمن رحمان کو بہت پیاری ہیں اب سوال پیدا ہوتا ہے

کہ اللہ کے تو ننانوے نام ہیں تو یہاں پر رحمن کا نام کیوں استعمال کیا گیا وہ اس لئے کہ رحمان اس کو کہتے ہیں کہ جس کی دین بہت زیادہ ہوتی ہے ایک ہوتا ہے کسی کے پاس پیسے کا زیادہ ہونا یہ الگ صفت ہے ایک ہے اس کا پیسے خرچ کرنے والا خوب ہونا سخی ہونا یہ الگ صفت ہے کئی لوگوں کے پاس پیسہ ہوتا ہے کنجوس مکھی چوس ہوتے ہیں کیا فائدہ کئی لوگوں کے پلے کچھ نہیں ہوتا

سخی بڑے ہوتے ہیں کیا فائدہ مزہ تو یہ ہے کہ پیسے بھی ہوں زیادہ اور خرچ کرنے کی عادت بھی خوب ہو تو اللہ کی دو صفتیں ہیں ایک ہے اللہ رحیم ہے اس کی رحمت بے انتہاء بے پایاں ہے اور ایک ہے رحمٰن کہ اللہ تعالیٰ خرچ بھی بے انتہاء کرتے ہیں وہ اپنوں کوبھی دیتے ہیں پرایوں کو بھی دیتے ہیں ایمان داروں کو بھی دیتے ہیں غداروں کو بھی دیتے ہیں کافروں کو دنیامیں کون پالتا ہے اولاد کون دیتا ہے

تو اللہ کی رحمت اپنے پرائے سب پر تقسیم ہورہی ہے اس لئے یہاں پر رحمان کا لفظ استعمال کیا گیا حدیث پاک میں آتا ہے.

کہ جس بندے نے کلمہ پڑھا درود شریف پڑھا جزی اللہ عنا محمد ماھوا اھلہ ستر فرشتے ایک ہزار دن تک اس کا اجر لکھتے رہتے ہیں ایک ہزار دن تک تقریبا تین سال لگ گئے ایک دفعہ یہ درود شریف پڑھیں تو ستر فرشتے تین سال تک اس کا اجر لکھتے رہیں گے کتنی بڑی نیکی ہے اب چھوٹے سے عمل پر اتنا بڑا اجر یہ رحمان ہی عطاکرسکتا ہے

اور ایک حدیث پاک میں آتا ہے کہ جمعہ کے دن عصر کے بعد جو اسے اسی مرتبہ پڑھے اللھم صل علی محمد ن النبی الامی وعلی آلہ وسلم تسلیما اسی مرتبہ پڑھنے پر اللہ تعالیٰ اسی سال کے گناہوں کو معاف فرمادیتے ہیں ۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین