کپڑے بدلتے وقت جیب سے پیسے گر جائیں تو گھر میں کیا حادثہ ہوتا ہے؟

جب ہم کسی دکان پر کچھ خریدنے کے لئے جاتے ہیں تو وہاں سے کچھ کھلے پیسے ہمیں مل جاتے ہیں جو سکوں کی صورت میں ہوتے ہیں یا نوٹ کی صورت میں ہوتے ہیں تو ان کو ہم جلدی جلدی سے اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں بڑا نوٹ ہم اپنے پرس سے نکال کر دیتے ہیں اور جب سامان خرید لیتے ہیں تو وہ جو بچے ہوئے سکے ملتے ہیں تو ان کو ہم جلدی سے اپنی جیب میں ڈال کر اپنے گھر کی طرف نکل جاتے ہیں

پھر کیاہوتا ہے کہ ان سکوں کو ان پیسوں کو ہم بھول جاتے ہیں کہ وہ ہم نے اپنی جیب میں رکھے ہوئے تھے اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا پھراس وقت پتہ چلتا ہے جب ہم کپڑے بدل رہے ہوتے ہیں یا کپڑے دھونے کے لئے گھروالوں کو دے رہے ہوتے ہیں تووہ جو سکے ہوتے ہیں

وہ نیچے گرجاتے ہیں تو لوگوں کا خیال ہے یہ جو سکے نیچے گر جاتے ہیں جب آپ کپڑے بدل رہے ہوں یا کسی کو پیسے گن کر دے رہے ہوں تو آپ کے پیسے زمین پر گرجائیں توان پیسوں کا گرنا بہت ہی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان پیسوں کا گرنا تو اس بات کی خوشخبری ہوتی ہے کہ آپ کو آنے والے دنوں میں بہت ہی زیادہ پیسہ ملنے والا ہے اور کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو پیسے نیچے گر جاتے ہیں یہ گرنے نہیں چاہئیں یہ انسان کے لئے آنے والے دنوں میں بہت ہی رکاوٹوں کا باعث ہوتے ہیں اگر اس کے پاس دولت آنی ہوتی ہے تو وہ بھی رک جاتی ہے

اگر اس کے کاروبار میں ترقی ہوتی ہے تو وہ بھی رک جاتی ہے اس طرح کی ہمیں بہت سی باتیں سننے کو ملتی ہیں اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ منگل کے دل سفر نہیں کرنا چاہئے یہ بھی منحوس دن ہوتا ہے سفر کے حوالے سے اگر کالی بلی راستہ کاٹ جائے تو یہ بھی آپ کے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے

گھر میں خواتین جو روٹیاں پکاتی ہیں ان روٹیوں کو گن کر نہیں رکھنا چاہئے مغرب کے وقت گھر میں جھاڑو نہیں لگانا چاہئے یہ بھی بہت منحوس ہوتا ہے اور جو ہم فروٹ کیلا کھاتے ہیں کیلا ایک نہیں کھانا چاہئے

بلکہ دو کھانے چاہئیں ایک کھانا انسان کی صحت پر بہت برا اثر ڈالتا ہے اس طرح کی ہمیں بہت سی باتیں ایسی سننے کو ملتی ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا یہ صرف لوگوں کو پریشان کرنے کے لئے من گھڑت باتیں بنائی ہوتی ہیں اور آج کل لوگوں کا ان باتوں پر بڑا پکایقین ہے اگر ایسا کچھ ہو جائے تو وہ بس اسی وہم میں پڑ جاتے ہیں کہ اب تو میرا نقصان ہو کر ہی رہے گا

لیکن نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی انسان کے جھوٹا ہونے یا گناہ گار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات بغیر تحقیق کے آگے بیان کر دے ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین