جو آج سے قرض اتارنے کے لئے 41 مرتبہ پڑھےگا

قرض اتارنے کے لئے یہ بہت ہی آسان وظیفہ ہے ۔جتنے سالوں سے قرضہ چڑھا ہوا ہے اور کوئی بھی راستہ نظر نہ آتا ہو تو یہ عمل کیجئے کوئی بھی راستہ نہ مل رہا ہوگا تو راستہ ملے گا قرض تو ختم ہوگا ہی اور خوشحالی کا دو دورہ بھی ہوگا۔انشاء اللہ تعالیٰ بڑا زبر دست مجرب عمل ہے ۔پہاڑ جتنا قرج کیوں نہ ہو ۔اللہ کے حکم سے قرض چند دن میں ختم ہوگا اور خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔

سورۃ النصر آپ سب کو معلوم ہے کہ یہ نمازمیں اکثر پڑھی جاتی ہے ۔ سورۃ النصر پارہ نمبر 30 کو آپ نے عشاء کی نماز کے بعد آپ نے 41 مرتبہ پڑھنی ہے اور جب یہ پڑھیں تو اپنا مقصد اپنی پریشانی کو ذہن میں رکھتے ہوئے۔توجہ کے ساتھ پڑھنی ہے اس دوران گفتگو کی اجازت نہیں ہے۔

اول آخر گیارہ مرتبہ درود شریف لازمی پڑھنا ہے ۔درود شریف وہی نماز والا پڑھنا ہے جس کو درود ابراہیمی کہتےہیں اور لگاتار 41 دن کی نیت سے کرنا ہے ۔یہ عشاء کی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے بعد اس کی اجازت نہیں ہے ۔

عشاء کی نماز کے بعد جب بھی کر لیں فجر سے پہلے۔تہجد کے وقت بھی کیا جاسکتا ہے۔اور پھر اللہ سے گڑگڑا کر دعا کیجئے۔خواتین کے لئے یہ ہے کہ اپنے ناغے کے دنوں کو شمار نہ کریں پاکی کے دنوں میں یہ عمل کیجئے۔یہ عمل کسی اور کے لئے بھی کیا جاسکتا ہے۔ انشاء اللہ آپ لوگوں کا قرض جلداتر جائے گا اور بہت فائدہ ہوگا۔

پہلی بات تو یہ مد نظر رہے کہ قرض لینا شریعت کی نظر میں اچھا نہیں ہے، جب تک بغیر قرض کے گزارا ہو سکتا ہو، شریعت قرض لینے کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔جب کوئی معقول اور جائز ضرورت بغیر قرض کے پوری نہ ہو رہی ہو تو پھر قرض لینے کی اجازت ہے۔ اس اصول پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں، آج ہم اچھی کوٹھی، اچھی گاڑی کے لیے، وہ بھی صرف دوسروں کو نیچا دکھانے کی خاطر، قرض لے رہے ہوتے ہیں۔ کیا یہ ایک معقول وجہ ہے قرض لینے کی؟ شادی بیاہ کے موقع پر شریعت ہمیں سادگی کی تعلیم دیتی ہے،

حدیث میں اس نکاح کو سب سے زیادہ بابرکت قرار دیا گیا ہے جس میں کم سے کم خرچہ ہو۔ دوسری جانب ہم اپنی شادی بیاہ کی تقریبات کو دیکھیں۔ اکثر لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں، بھائی شادی زندگی میں ایک بار ہوتی ہے، دھوم دھام سے ہونی چاہیے اور اس دھوم دھام کے پیچھے قرض لیا جا رہا ہے، سوچیں! کیا یہ معقول وجہ ہے؟

ہر گز نہیں! اللہ کے لیے ہم اپنے اوپر رحم کریں۔ شادی میں دکھاوا کرنا حرام ہے۔اس کے لیے قرض لینا کسی صورت جائز نہیں ہو سکتا۔ ہم بغیر قرض لیے سادگی کے ساتھ کی گئی شادیوں کو رواج دیں۔دوسری اہم تعلیم قرض لینے والے کے لیے یہ ہے کہ اس کی قرض کی واپسی کی سچی نیت بھی ہو۔ ایسا نہ ہو کہ پیسے ہڑپ کرنے کی نیت ہو۔

حدیث میں اس شخص کے لیے بد دعا آئی ہے کہ جو لوگوں سے مال ہڑپ کرنے کی نیت سے قرض لیتا ہو اللہ تعالی اسے برباد کرے۔ اس اصول پر بھی ہم غور کریں، جب قرض لے رہے ہیں تو دل میں کیا نیت ہے۔

اللہ تعالی دلوں کے حال سے واقف ہے، لہذا اگر قرض لینے کی ضرورت پڑے تو دینے کی نیت بھی ہو۔تیسری بات قرض لینے والے کے لیے یہ ہے کہ اس کے لیے مستقبل میں ادائیگی کے امکانا ت بھی ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ ذریعہ معاش کوئی ہے نہیں، لیکن قرض دینے والے کو جھوٹا آسرا دے دے۔ اس کی شرعاً اجازت نہیں۔

قرض لینا اسی وقت درست ہو گا جب ادائیگی کا بظاہر امکان ہو، ورنہ قرض دینے والے کو صاف کہہ دے کہ یہ حالت ہے۔قرض دینے کے فضائل کے ساتھ ساتھ شریعت نے قرض کی واپسی کے لیے بھی ایسی تعلیمات دی ہیں جن سے قرض کی واپسی یقینی ہو سکے۔ ایک طرف شریعت نے قرض لینے والے کو بھی ایسی ہدایات دی ہیں جن سے وہ قرض کی ادائیگی کی فکر کرے۔

یوں قرض دینے والے کا حق ضائع نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ قرض دیتے وقت ہی کچھ اقدامات کیے جا سکتے ہیں جن سے قرض دینے والے کا حق محفوظ ہو جائے۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین