ان تین لوگوں پر ہمیشہ اعتبار کرو؟

خودکشی وہ ق ت ل ہے جو ہم سب مل کر کرتے ہیں اور اس ق ت ل کا الزام ہمیشہ مقتول پر ہی لگتا ہے ۔زندگی کو اتنا سیریئس لینے کی کوئی ضرورت نہیں ،یاد رکھیں یہاں کوئی بھی اپنے وقت مقرر سے زیادہ نہیں رہا ہے چاہے وہ اولیاء اللہ یا پھر دنیاوی بادشاہ ہی کیوں نہ ہو۔قرض لینے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ قرض دن کی رسوائی ہے اور رات کا غم۔

وہ ایک انگلی جو مشکل وقت میں آپ کے آنسو پونچھتی ہے ان دسانگلیوں سے بہتر ہے جو آپ کی کامیابی پر تالیاں بجاتی ہیں۔ ان لوگوں پر اعتبار کرو جو تمہاری تین باتیں بھانپ سکیں۔1: تمہاری ہنسی میں پوشیدہ درد ۔2:تمہارے غصے میں تمہارا پیار۔3:تمہاری خاموشی میں پوشیدہ وجہ۔

ہرشخص میں برائیاں بھی ہوتی ہیں اور خوبیاں بھی اب یہ ڈھونڈنے والے پر منحصر ہے کہ کیا چاہئے جسم کو موت آجاتی ہے لیکن ہمارا کردار ہمارے بعد بھی یاد رکھا جاتا ہے جسم کو خوبصورت بنانے کے بجائے اخلاق و کردار کو زینت دینے والا عقلمند ہے۔

دس بار حج کر لو،دس مسجدیں بنوال و ساری عبادات بجا لاؤ لیکن ایک بات یاد رکھنا اگر ماں باپ راضی اور خوش نہیں ہیں تو اللہ بھی راضی تم سے نہیں ہے ۔اعتبار اس قوت کا نام ہے جو انسان کو دوسرے انسانوں کے متعلق بد گمانی سے بچاتی ہے۔ اعتبار کے دم سے بڑی بہاریں ہیں۔ جس کا بہار پہ اعتبار ہو اس کے گلشن میں پھول کھِل کر رہتے ہیں۔

اعتبار انسان کو انتشار سے بچاتا ہے اندرونی انتشار سے۔ یہ ایک میٹھے پانی کا چشمہ ہے جو اسے اندر سے سیراب کرتا رہتا ہے۔ اعتبار سکون ہے۔ قرار ہے۔ من کی شانتی ہے۔ پُر اعتبار لوگ ہی پُر اعتماد ہوا کرتے ہیں۔ وہ یقین کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ ان کا یقین ہی انھیں دھوکہ کھانے سے بچاتا ہے۔آج ہر طرف بے اعتباری کی وبا پھیل چکی ہے۔ اپنا ہاتھ ہی دوسرے ہاتھ پر اعتبار نہیں کرتا کیا کیا جائے۔ دوست کا دوستوں اور دوستیوں سے اعتبار اٹھ گیا۔

انسان کو آنے والے خطرات خدشات اور حادثات پر اعتبار ہے مگر اسے یہ یقین نہیں کہ آنے والا دور بہترین دور ہو سکتا ہے۔ آج ہم وہموں اور وسوسوں پر اعتبار کر لیتے ہیں مگر کسی حقیقت پر اعتبار کرنے سے پہلے صرف سوچتے اور پوچھتے رہتے ہیں۔ہر کوئی ہر کسی سے پوچھ رہا ہے مگر کوئی کسی کا پوچھنے والا نہیں ہے۔

ہم دھوپ میں کھڑے کسی شخص کو اپنی موٹر کار یا موٹر سائیکل پر لِفٹ دینے کو اس لیے تیار نہیں کہ یہ کوئی چور یا لٹیرا نہ ہو مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر مدد مانگنے والا شخص لٹیرا ہوتا ہے؟۔ کیا ہر وہ شخص دھوکہ دے گا جس کی ہم مدد کریں گے؟ کیا مسجد میں ہر آدمی جوتے چوری کرنے آتا ہے؟

اگر ایسا نہیں تو پھر ہماری مسجدوں کے صحنوں تک جوتے لا کر صفوں کے نیچے کیوں رکھے جاتے ہیں کونے کدروں میں چھپائے کیوں جاتے ہیں۔ اصل میں فریب کھانے کا وہم فریب کھانے سے بھی بُرا ہوتا ہے۔ مجھے دھوکہ ملے گا یہ خیال ہی سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ یہی وہم ہمیں ضرورت مندوں کی ضرورت پوری نہیں کرنے دیتا۔ ہم دھوکے کے ڈر سے لوگوں کے قریب آتے ہیں نہ انھیں قریب آنے دیتے ہیں۔

ایک بُرے انسان کا خوف ہمیں نہ جانے کتنے ہی اچھے لوگوں سے محروم کر جاتا ہے۔ دولت کو ہاتھ میں رکھنے کی کوشش میں کیسی کیسی دولت ہمارے ہاتھ سے نکل جاتی ہے اور ہم بے اعتباری کے نرغے سے نکل نہیں پاتے۔

اس وقت ہمارے معاشرے کو ہماری ضرورت ہے ہمارے اعتبار کی ضرورت ہے۔ہمارے مستقبل کو ہمارا بھروسہ چاہیے پھر یہ روشن ہے۔ اس سے پہلے کہ بے اعتباری کے تعفن سے ہمارا دم گھُٹ جائے کیوں نہ ہم اعتبار کی کھُلی فضا میں آ کر دیکھیں۔۔۔۔ ہم دیکھیں کہ یہاں صرف دھوکہ دینے والے نہیں بلکہ دعا دینے والے بھی رہتے ہیں کیوں نہ دعا لی جائے۔

مگر یہ لوگ اس وقت ملیں گے جب ہمارے اپنے اندر اعتبار ہو گا۔۔۔ اس سفر میں ایثار زادِ سفر ہوا کرتا ہے۔ یہ شعبہ حاصل کی تمنا رکھنے والوں کا شعبہ نہیں ہے۔ مگر یہ بڑا ضروری ہے کہ ہم اعتبار کرنا سیکھیں ایسا نہ ہو کہ کسی ایک چور کی وجہ سے ہم سب کو چور سمجھنا شروع کر دیں اور زندگی محض جوتوں کی حفاظت میں ضائع ہو جائے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment