تمام گناہ معاف بس یہ کام نہ کیا ہو؟

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم تو مجھے جب بھی پکارے گا اور مجھ سے امید رکھے گا تو میں تیرے سارے گناہ بخش دوں گا اور کوئی پرواہ نہیں کروں گا اے ابن آدم اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندی کو چھو لیں پھر تو مجھ سے معافی مانگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوگی

اے ابن آدم اگر تو میرے پاس زمین بھر خطائیں لے کر آئے بس تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو میں تیرے لئے زمین بھر مغفرت لاؤں گا ۔تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ، جو نہایت رحم کرنے والا، اور توبہ قبول کرنے والا ہے، جو گناہوں کو بخشتااور توبہ قبول کرتا ہے، وہ سخت سزا دینے والا ہے،

جو بادشاہ، غالب، اور بہت زیادہ عنائت کرنے والا ہے،میں اپنے رب کی تعریف اور شکر گزاری بیان کرتے ہوئے اُسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں،اور میں یہ گواہی دیتا ہوں

کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں وہ یکتا ہے ، اپنی طرف جسے چاہے کھینچ لیتا ہے، اور جو اسکی طرف رجوع کرے اسی کو ہدایت سے نوازتا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں، جنہیں اللہ تعالی نے افضل ترین کتاب کیساتھ بھیجا، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، آپکی اولاد اور صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتیں اور برکتیں نازل فرما۔

مسلمانو!اللہ سے ڈرو! اس لئے کہ تقوی الہی کامیابی و کامرانی ہے، سعادت اور فلاح ہے۔اللہ کے بندو!یہ جان لو کہ بندے کیلئے کمال درجہ اللہ رب العالمین کے سامنے عاجزی اور انکساری میں ہے، اور اسکے لئے ذلت اور رسوائی اللہ تعالی کے سامنے تکبر و سرکشی اور اسکے اوامر و نواہی سے سر گردانی میں ہے، جو کہ اللہ تعالی کے ہاں بُری چیزوں کو پسند، اور پسندیدہ چیزوں کو بُرا جاننے سے ہوگی،

چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا: مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّئَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَكْرُ أُولَئِكَ هُوَ يَبُورُ جو شخص عزت چاہتا ہے تو عزت تو تمام تر اللہ ہی کے لئے ہے۔ پاکیزہ کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور صالح عمل انہیں اوپر اٹھاتا ہے اور جو لوگ بری چالیں چلتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے، اور ان کی چال ہی برباد ہونے والی ہے۔

اور اسی طرح ایک مقام پر فرمایا: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ آپ کے پروردگار نے فرمایا ہے: ”مجھے پکارو،

میں تمہاری دعا قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے ناک بھوں چڑھاتے ہیں عنقریب ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ عبادت کی تمام تر اقسام سے ہی اللہ تعالی کیلئے عاجزی ، انکساری، محبت کا اظہار ہوگا، اور ان عبادات میں سے ایک عظیم عبادت “توبہ “ہے،بلکہ بڑی توبہ سب سے افضل عبادت ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کفر سے توبہ لے،

چنانچہ اللہ تعالی نے ہود علیہ السلام کے بارے میں فرمایاکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا: وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِينَ اور اے قوم! اپنے پروردگار سے معافی مانگو، پھر اسی کے آگے توبہ کرو وہ تم پر موسلا دھار بارش برسائے گا اور تمہاری موجودہ قوت میں مزید اضافہ کرے گا تم مجرموں کی طرح منہ نہ پھیرو” پھر اسی طرح منافقوں کو بھی اللہ تعالی نے توبہ کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: فَإِنْ يَتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَهُمْ وَإِنْ يَتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ عَذَابًا أَلِيمًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ

اگر یہ(منافق) توبہ کر لیں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر یہ اعراض کریں تو اللہ انہیں دنیا میں بھی دردناک عذاب دے گا اور آخرت میں بھی۔ اور ان کے لئے روئے زمین پر کوئی حامی اور مددگار نہ ہوگا ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین