ان اسمائے اعظم کے کیا کیا کمالات ہیں ؟

حسبی اللہ الحسیب ،مصائب کے مشکلات کے پہاڑ ریزہ ریزہ کرنے کا خاص وظیفہ ہے دنیا کی ہر مشکل کا خاتمہ دولت مند بنانے والا خاص عمل ۔اس رب کو پہچانوں جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے کئی لوگ زہرپی کر آتے ہیں پھر بھی بچ جاتے ہیں اور کئی لوگ بچنے کے لئے ہسپاتوں میں جاتے ہیں پھر بھی مرجاتے ہیں و اہ میرے رب تیری عظمت اور شان کے کیا کہتنے۔جس کی برکت سے دنیا کی بڑے سے بڑی مشکل کاخاتمہ ہوگا۔

انسان کے اوپر اکثر اوقات مشکل وقت آجاتا ہے پریشانیاں اور بیماریاں آجاتی ہیں رزق و دولت کی تنگی ہوجاتی ہے اور انسان ہر طرف سے پریشانیوں کے چنگل میں پھنس کر رہ جاتا ہے ۔ایسے حالات میں انسان کو گھبرانا نہیں چاہئے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ر کھنا چاہئے۔کیونکہ یہ وقت آزمائش کا ہوتا ہے اور جو شخص اس آزمائش میں کامیاب ہوجاتا ہے اللہ اس کو اپنی نعمتوں سے نوازدیتا ہے اور پریشانیوں کو رفع دفع فرماتا ہے۔

آپ اس وظیفے پر عمل کریں اور پریشانیوں کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوتے دیکھیں۔قرآن و حدیث میں نیک اعمال کی جانب ترغیبات سے بدیہی طورپر یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ اعمال صالحہ کی وجہ سے آخرت میں کامیابی ہو جائے گی اور انسان جنت میں پہنچ جائے گا۔

قرآن کریم کی متعدد آیات سے یہی بات مترشح ہوتی ہے، بلکہ ایک آیت میں تو صاف طورپر بیان کردیا گیا کہ جنت کے وارث تم اپنے اعمال ہی کی وجہ سے بنائے جاؤ گے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: اور یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے بنا دیئے گئے، جو تم (دنیا میں) کرتے رہے لیکن ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت اعمال کی وجہ سے نہیں، بلکہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ملے گی۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا کوئی بھی شخص اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہوگا؟ ۔ آپﷺ نے فرمایا: ہاں کوئی بھی شخص اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہوگا اور یہ بات آپﷺ نے تین مرتبہ فرمائی۔ حضرت عائشہ صدیقہ نے پھر سوال کیا: یارسول اللہ! کیا آپ بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جائیں گے؟ ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر اقدس پر دست مبارک رکھ کر فرمایا: ہاں، میں بھی نہیں جاؤں گا الا یہ کہ اللہ تعالی مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے اور یہ بات بھی آپﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔یہاں قرآن و حدیث میں بظاہر تعارض نظر آتا ہے، قرآن پاک دخول جنت کا سبب عمل بتا رہا ہے اور حدیث شریف بتا رہی ہے کہ دخول جنت کا سبب اللہ تعالی کی رحمت ہوگی۔

یہ تعارض تھوڑے سے تأمل سے رفع ہو جاتا ہے۔ حقیقت اس کی یہ ہے کہ انسان کی نجات تو اللہ کی رحمت ہی سے ہوگی، لیکن چوں کہ دنیا دارالاسباب ہے، اس لئے نجات اور دخول جنت کے لئے اللہ کی رحمت انسان کے کسی عمل کو سبب بنالے گی اور کوئی ایسا عمل سبب بنادیا جائے گا کہ انسان کے وہم و گمان میں نہیں ہوگا کہ یہ عمل دخول جنت کا سبب بن جائے گا۔

دراصل اس سبب کو ذریعہ نجات بنادینا اللہ تعالی کی رحمت کی وجہ سے ہوگا۔ اگر اس کی رحمت شامل حال نہ ہو تو سارے اعمال صالحہ دھرے رہ جائیں گے اور انسان کی نجات نہیں ہوگی، اس لئے ہمیں بھروسہ اس کی رحمت پر ہی کرنا چاہئے۔ ہماری نجات کا بنیادی سہارا بس اللہ تعالی کی رحمت ہی ہے۔آخرت میں اللہ تعالی کی عدالت لگے گی اور میزان عدل قائم کردی جائے گی،

لیکن نجات عدل سے نہیں فضل سے ہوگی، اس لئے کہ ہمارے بیشتر اعمال نیت کے کسی نہ کسی کھوٹ کی وجہ سے پہلے ہی مرحلہ پر ضائع ہو جائیں گے۔ ہم جن اعمال پر بھروسہ کئے ہوئے ہوں گے، ان میں نیت کا کوئی ایسا پوشیدہ فساد نکل آئے گا، جس کی وجہ سے ہمارا ہر عمل برباد ہوتا چلا جائے گا۔ یہ فسادِ نیت، شیطان کی وہ کارگزاری ہے، جو اس دن سامنے آئے گی۔

اس کا خاص میدان عمل ہماری نیت ہی ہوتا ہے اور وہ اسی کو ہدف بناتا ہے، لیکن رحمت خداوندی بخشش کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ ان شاء اللہ تعالی ڈھونڈ لے گی، جس سے ہماری نجات ہو جائے گی۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین