آپ خوش قسمت ہے یا بد قسمت

میں نے ایک دن مرشد سے پوچھا استاد خوش قسمتی اور بدقسمتی آخر ہوتی کیا ہے؟ وہ ہنس کر بولے خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا فرق ہوتا ہے لکڑی پانی میں تیرتی ہے جب کہ لوہا فوراً ڈوب جاتا ہے۔خوش قسمت انسان لکڑی کی طرح مصائب مسائل اور پریشانیوں میں تیرتا رہتا ہے مسائل اور پریشانیاں اس کے اردگرد اس کے دائیں بائیں اوپر نیچے بہتی رہتی ہیں

لیکن یہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں یہ ان کی گہرائیوں میں نہیں ڈوبتا جب کہ بدقسمت شخص لوہے کی کیل کی طرح چند لمحوں میں مسئلوں کے پانی میں ڈوب جاتا ہے۔بدقسمت شخص کے بارے میں عربی کی بڑی شاندار کہاوت ہے عرب کہتے ہیں انسان پر جب بدقسمتی کے سائے آتے ہیں تو یہ اونٹ پر بھی بیٹھا ہو تو اسے کتا کاٹ لیتا ہے۔

اسی طرح ہندی میں بدقسمت شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ سونے کو بھی ہاتھ لگائے تو وہ مٹی ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں محاورے درست ہیں کیونکہ بدقسمتی کے دور میں ہر خوشی ہر کامیابی اور ہر اچھائی الٹ ہو جاتی ہے بدقسمت شخص کا چاند جوہڑ سے طلوع ہوتا ہے اور اس کے گلابوں سے گوبر کی بو آتی ہے یہ بے چارہ حدیث بھی سنائے تو لوگ منہ پھیر لیتے ہیں۔اس کا اپنا سایہ بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے

اور یہ مسائل اور پریشانیوں کے لق و دق صحرا میں خشک ٹہنی کی طرح تنہا کھڑا ہوتا ہے اس کے اوپر اور نیچے دونوں طرف آگ دہک رہی ہوتی ہے اور اس لمحے یہ دائیں بائیں اوپر نیچے دیکھ کر قدرت سے صرف ایک سوال کرتا ہے یا پروردگار میں کیا کروں؟

یہ دنیا کا قیمتی ترین سوال ہے اور ہم میں سے ہر انسان زندگی میں کبھی نہ کبھی اس نقطے پر ضرور آتا ہے۔یہ سوال بعض لوگوں کی زندگی میں بجلی کے شعلے کی طرح آتا ہے اور چلا جاتا ہے اور بعض کی زندگی میں یہ سوال سکینڈے نیوین ملکوں کی راتوں کی طرح طویل ہو جاتا ہے اور انسان کی سانسیں امید اور نا امیدی کی منڈیر سے لٹکی رہ جاتی ہیں ۔میں نے پوچھا بدقسمتی کے اس لمحے انسان کیا کرے؟ ۔

وہ بولے ہمیں اس سوال کے جواب سے پہلے قدرت کے نظام کو سمجھنا ہوگا قدرت کے نظام میں ہر چیز دوسری چیز سے توانائی حاصل کر تی ہے جانداروں کے زندہ رہنے کے لیے آکسیجن اور پانی ضروری ہوتا ہے پانی اور آکسیجن کے لیے سورج کی روشنی ضروری ہے سورج کی روشنی پیدا کرنے کے لیے جلنے والی گیسیں چاہییں اور گیسوں کی پیدائش کے لیے کسی ان دیکھی کہکشاں کے کیمیائی ری ایکشن ضروری ہوتے ہیں اسی طرح پودوں کو جانور کھاتے ہیں

جانوروں کو انسان کھاتا ہے۔انسان کا جسد خاکی کیڑے مکوڑے کھا جاتے ہیں اور کیڑے مکوڑوں کی باقیات پودے چٹ کر جاتے ہیں غرض کائنات کی تمام اکائیاں ایک دوسرے کی محتاج ہیں ہمارا مقدر بھی کسی نہ کسی دوسرے شخص سے جڑا ہوتا ہے ہماری خوش قسمتی اور بدقسمتی دونوںدوسرے لوگوں سے وابستہ ہوتی ہیں

چناںچہ انسان جب بھی بدقسمتی کے گرداب میں پھنسے تو اسے چاہیے یہ کسی دوسرے خوش قسمت شخص کا سہارا لے لے بالکل لوہے کی اس کیل کی طرح جو ڈوبنے سے بچنے کے لیے لکڑی کے تختے میں پیوست ہو جاتی ہے۔بدقسمت انسان کیل کی طرح لکڑی کے تختے کا حصہ بن کر مسائل کے سمندر میں تیر سکتا ہے ہم سب کو بدقسمتی کے دور میں تین حقیقتیں ذہن میں رکھنی چاہئیں۔

ایک دنیا میںکوئی چیز کوئی صورت حال اور کوئی حالت مستقل نہیں ہوتی دنیا کی ہر چیز میں تبدیلی آتی ہے رات خواہ کتنی ہی لمبی اور دن خواہ کتنا ہی چمکدار کیوں نہ ہو یہ دونوںبالآخر ختم ہو جاتے ہیںاور بدبو خواہ کتنی ہی ناقابل برداشت کیوں نہ ہو یہ ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہے۔

خوش قسمتی کی طرح بدقسمتی بھی عارضی ہوتی ہے اور یہ بالآخر ختم ہو جاتی ہے لیکن سوال یہ ہے اس کا دورانیہ کتنا لمبا ہو سکتا ہے؟۔ہندی نجومیوں کے مطابق بدقسمتی کا دورانیہ عموماً اڑھائی سال سے ساڑھے سات سال تک ہوتا ہے اور بدقسمتی کے نوے فیصد کیسوں میں ساڑھے سات سال بعد صورت حال تبدیل ہو جاتی ہے

جب کہ یورپین ماہرین انسان کی زندگی کواٹھائیس اٹھائیس برسوں کے تین ادوار میں تقسیم کرتے ہیں ان کے مطابق دنیا کے ہر انسان (اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو) کی زندگی میں اٹھائیس سال بعد نمایاں تبدیلی آ جاتی ہے یہ تبدیلی بعض اوقات اگلی نسل میں جا ظاہر ہوتی ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں ایک نسل کسمپرسی میں زندگی گزارتی ہے اور اگلی نسل کی شروعات ہی خوش حالی اور کام یابی سے ہوتی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین