جمعہ والے دن یہ جرم کرنا چھوڑ دیں

جمعہ کی فضیلت اتنی ہی انسان اگر سمجھ لے جس کے بارے میں خود رسول اللہ نے فرمایا اور یہ روایت عبداللہ ابن عمر ؓ اور ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے صحیح مسلم کی روایت ہے لوگ جمعہ چھوڑ نے کے جرم کو چھوڑ دیں وگرنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگادیں گے پھر ان کی زندگی غافلوں کی زندگی ہوجائے گی اور ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں جو شخص تین جمعے سستی کرتا ہوا چھوڑ دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادیتے ہیں

رسول اللہ نے جمعہ کی فضیلت کے متعلق فرمایا سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ اللہ رب العزت کے پیارے پیغمبر نے صحابہ کرام ؓ کو اس بات کی خوشخبری دی اور فرمایا ہم دنیا کے اندر تو یہودیوں اور عیسائیوں کے بعد آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے جنت میں جائیں گے پوری کائنات سے پہلے اگر کسی کا حساب و کتاب ہو گا کسی کو اس بات کی نوید سنائی جائے گی کہ تم جنت میں جاؤ تووہ امت محمدیہ ہوگی ۔

نبی اکرم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے وقت مدینہ منورہ کے قریب بنو عمروبن عوف کی بستی قبا میں چند روز کے لیے قیام فرمایا۔ قُبا سے روانہ ہونے سے ایک روز قبل جمعرات کے دن آپ نے مسجد قبا کی بنیاد رکھی۔ یہ اسلام کی پہلی مسجد ہے، جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی۔ جمعہ کے دن صبح کو نبی اکرم قُبا سے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے۔

جب بنو سالم بن عوف کی آبادی میں پہونچے تو جمعہ کا وقت ہوگیا، تو آپ نے بطنِ وادی میں اُس مقام پر جمعہ پڑھایا جہاں اب مسجد (مسجد جمعہ) بنی ہوئی ہے۔ یہ نبی اکرم کا پہلا جمعہ ہے یہودیوں نے ہفتہ کا دن پسند کیا جس میں مخلوق کی پیدائش شروع بھی نہیں ہوئی تھی، نصاری نے اتوار کو اختیار کیا، جس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتدا ہوئی تھی۔

اور اِس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پورا کیا تھا۔ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے تو سب سے پیچھے ہیں؛

لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔مسلم کی روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلہ ہمارے بارے میں ہوگا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سورج کے طلوع وغروب والے دنوں میں کوئی بھی دن جمعہ کے دن سے افضل نہیں ،یعنی جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل ہے ۔

رسول اللہ نے ایک مرتبہ جمعہ کے دن ارشاد فرمایا : مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے اِس دن کو تمہارے لیے عید کا دن بنایا ہے؛ لہٰذا اِس دن غسل کیا کرو اور مسواک کیا کرو۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا دن ہفتہ کی عید ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام کی سورہٴ بروج میں وشاھد ومشہود کے ذریعہ قسم کھائی ہے۔ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے یعنی اِس دن جس نے جو بھی عمل کیا ہوگا،یہ جمعہ کا دن قیامت کے دن اُس کی گواہی دے گا۔

رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے افضل نماز‘ جمعہ کے دن فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین