سات ایسی باتیں جو پوری زندگی کا نچوڑ ہیں؟

پوری زندگی کا نچوڑ صرف کچھ باتوں میں ہے ؟اللہ کے دیئے ہوئے پر راضی رہو ورنہ کوئی اور مالک تلاش کرو،جو اس سے زیادہ دے ۔جن باتوں سے اللہ نے منع فرمایا ہے اس سے باز آجاؤ ورنہ اس کی کائنات سے باہر چلے جاؤ۔اگر گناہ کرنا چاہتے ہو تو ایسی جگہ تلاش کرو جہاں اللہ نہ دیکھ سکے ورنہ گناہ مت کرو۔ اللہ کی عبادت کرو نہیں تو اس کا دیا ہوا رزق بھی مت کھاؤ۔

اللہ کے علاوہ کسی سے بھی امیدیں وابستہ مت کرو۔اللہ پر ایسے توکل رکھو جیسے سانس لیتے ہو۔یاد رکھو یہ دنیا مقام بقا نہیں مقام فنا ہے صبرو شکر کا دامن تھامے رکھو سکون اور کامیابی تمہارے ساتھ رہے گی۔ امام غزالیؒ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ بیٹا دنیا میں ایمان کے بعد اگر کوئی چیز ڈھونڈنا ہو تو اچھا دوست ڈھونڈنا کیونکہ اچھا دوست ایسے د رخت کی مانند ہے جو سایہ بھی دے گا اور پھل بھی۔

خباثت قلب کو ظاہر کرنے والی تین چیزیں ہیں۔ حسد، ریا اور عْجب۔ خود کو بڑا اور دوسروں کو حقیر سمجھنا عْجب ہے۔ اپنے آپ کو سب سے بہتر سمجھنا جہالت ہے۔ ہر شخص کو اپنے سے بہتر سمجھو۔ دنیا یعنی مال و دولت اور جاہ و حشمت کی خواہش رکھنا، سمندر کا پانی پینے کے مترادف ہے کہ جس قدر پیا جائے پیاس زیادہ لگتی ہے۔

بھوک کے بغیر کھانا مکروہ ہے۔ کھانے میں نقص مت نکالا کرو، اگر ناپسند ہو تو مت کھاؤ۔ سب سے اعلیٰ درجے کی دولت زبانِ ذاکر، دلِ شاکر اور زنِ فرمانبردار ہے۔ خواہش پر غالب آنا فرشتوں کی صفت ہے اور خواہش سے مغلوب ہونا چوپایوں کی صفت ہے۔ تکلف بہت بڑھ جائے تو یہ محبت میں کمی کا باعث بن جاتا ہے۔

کسی شخص کا اس کی غیر موجودگی میں ایسا ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو رنجیدہ ہو، غیبت ہے۔ ظالم کی موت پر ملول ہونا بھی ظلم میں شامل ہے۔ کتے سے پانچ خصلتیں سیکھو۔ 1۔ بھوکا ہوتا ہے مگر اپنے مالک کا دروازہ نہیں چھوڑتا۔ 2۔ تمام رات جاگتا ہے اور مالک کے گھر کی چوکیداری کرتا ہے۔ 3۔ خواہ کتنا ہی ماریں کسی دوسرے کے دروازے پر نہیں جاتا۔4۔ اس کا کوئی مکان نہیں ہوتا۔ 5۔ اس کے پاس کوئی مال نہیں ہوتا۔

لوگوں کی نیکیوں کو ظاہر کرنا چاہیے اور برائیوں سے چشم پوشی لازم ہے۔ بچوں کی اصلاح مکتب میں ہے اور عورت کی گھر میں۔ جتنی چاہے نمازیں پڑھو اور روزے رکھو، اس وقت تک فائدہ نہیں پا سکتے جب تک مال حرام سے پرہیز نہ کرو گے۔ مال حرام سے صدقہ دینا ایسا ہے جیسے ناپاک کپڑے کو پیشاب سے دھویا جائے۔

امام غزالی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک بادشاہ کا بڑا باغ تھا، جس کے کئی حصے تھے اس نے ایک آدمی کو بلایا اور اور اس کے ہاتھ میں ایک ٹوکری تھما دی اور کہا کہ میرے باغ میں داخل ہو جاؤ اور بہترین پھلوں سے ٹوکری بھر لاؤ ۔بڑا انعام ملےگا مگر شرط یہ ہے کہ جب اندر سے گذر آجاو تو تمہیں دو بارہ واپس جانے کی اجازت نہیں ہو گی،

اس نے کہا چلو یہ تو کوئی بڑی بات نہیں وہ لیکر اس ٹوکری کو چل پڑا ایک طرف سے دروازے میں داخل ہوا دیکھا کہ اس کے اندر پھل ہیں مگر پسند نہ آئے ،اگلے درجہ میں داخل ہوا یہاں پھل پہلے سے بہتر تھے، سوچنے لگا کچھ توڑلوں کہنے لگا اگلے درجہ سے توڑ لوں گا پھل یہاں بھی کچھ بہتر تھے، پھر اگلے درجہ میں بہت بہتر تھے اور اس سے اگلے والے درجہ میں بہت ہی بہترین تھے یہاں دل میں خیال آیا کہ اب تو میں کچھ پھل توڑ لوں پھر سوچنے لگا آگے سب سے بہتر پھل توڑوں گا،

جب اگلے اور آخری درجہ میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہے وہاں پر کسی بھی درخت پر پھل نہیں ہیں، افسوس کرنے لگا کہ اے کاش میں نے پہلے درجے سے پھل توڑے ہوتے تو آج میری ٹوکری خالی نہ ہوتی اب میں بادشاہ کو کیا منھ دکھاؤں گا، امام غزالی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اے دوست! بادشاہ اللہ رب العزت کی مثال کے مانند ہے ۔ اور انسان جو باغ میں جارہا ہے وہ تیری مثال ہے ۔اور ٹوکری سے مراد تیرا نامہ اعمال ہے ۔زندگی کی مثال باغ کی مانند ہے ۔

اور اس کے مختلف حصے تیری زندگی کے ہر دن کے مانند ہیں ۔اب تجھے ہر دن میں نیکیوں کے پھل توڑ نے کا حکم دیا گیا لیکن تو روز سوچتا ہے کہ میں کل سے نیک بن جاؤں گا، یعنی اگلے درجہ سے پھل توڑوں گا، اگلے درجے سے پھل توڑ وں گا، تیرا اگلا دن نہ آ سکے گا، اور تجھے اسی دن اللہ کے حضور جانا پڑ ے گا ۔سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارا کھڑے پیر چل دینا پڑے گا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین