حضرت ابراہیم ؑ ایک روز جنگل میں سے گزر رہے تھے

وہب بن منیتہ رحمتہ اللہ علیہ فر ما تے ہیں کہ ایک روز حضرت ابراہیم علی السلام ایک جنگل میں سے گزر رہے تھے جب سورج نصف النہار پر پہنچا تو خوب گرمی ہو گئی اور آپ کو شدید پیاس محسو س ہو نے لگی آپ نے اپنے چاروں جانب نظر دوڑائی کہیں بھی پانی کا کوئی نا م و نشان نظر نہ آیا آپ نے پانی کی تلاش شروع کر دی

اور بڑی کوشش کی کہ کہیں سے پانی مل جائے اس لیے آپ جنگل میں ادھر ادھر گھومنے لگے اسی اثناء میں آپ نے ایک کالے حبشی کو دیکھا جس کے ہاتھ میں لاٹھی تھی وہ بکر یاں چرا رہا تھا۔

آپ اس کے پاس تشریف لے گئے اور اسے سلام کہا اس نے جواب دیا: وعلیکم السلام اے اللہ تعالیٰ کے خلیل آپ کو بڑا تعجب ہوا۔ آپ نے اس سے کہا کہ اے حبشی رونے کبھی بھی مجھے نہیں دیکھا پھر تجھے میرا نام کیسے معلوم ہے؟ اس کے بعد آپ نے اس سے فر ما یا کہ مجھے پیاس لگی ہوئی ہے کیا تم مجھے کچھ دودھ پلا سکتے ہو

اس نے کہا: اے اللہ تعالیٰ کے خلیل آپ دودھ پینا پسند فر ما ئیں گے یا ٹھنڈا پانی؟ آپ نے اس سے فر ما یا: اے حبشی ! اس وقت سخت گرمی ہے یہاں ٹھنڈا پانی کہاں سے ملے گا؟ وہاں ایک پتھر پڑا ہو ا تھا اس حبشی نے اپنی لاٹھی اس پتھر پر ماری توپتھر پھٹ گیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس میں سے دودھ سے زیادہ صاف شربت سے زیادہ لزیز اور برف سے کہیں زیادہ ٹھنڈا پانی بہنا شروع ہو گیا۔

اس نے کہا: اے خلیل اللہ تعالیٰ پانی کے قریب ہوں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر حیران مت ہوں پھر اس نے ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اے اللہ تعالیٰ کے پیارے خلیل! جو اللہ تعالیٰ کی اطا عت و فر ما نبرداری کر تا ہے ساری مخلوق اس کی اطاعت و فر ما نبر داری کرتی ہے۔

اگر میں اس پہاڑ سے کہون کہ وہ اپنی جگہ سے بلند ہو جائے تو پہاڑ اپنی جگہ سے بلند ہو جائے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس پہاڑ کی جانب دیکھا تو اس پہاڑ نے اپنی جگہ سے حر کت کی اور بادل کی طرح ہوا میں لٹک گیا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور زیادہ متعجب ہو گئے۔

اور کافی دیر تک حیرانگی کے ساتھ کبھی پہاڑ کو دیکھتے اور کبھی حبشی غلام کو ۔ پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اس کی پاکی بیان کی اتنے میں حضرت جبر یل علیہ السلام اتنے میں حضرت جبر یل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا: اے ابر اہیم !آپ کس بات پر اتنے حیران ہو رہے ہیں؟

آپ نے فر ما یا: میں اس حبشی غلام پر حیران ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اتنا عظیم مرتبہ عطا فر ما یا ہے آپ کے پاس آئے اور کہا: اے ابراہیم ! یہ حقیر سا غلام اگر چہ بہت کم قیمت پر خریدا گیا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا مقام و مرتبہ اور قیمت بہت بلند ہے اگر یہ حقیر سا غلام اس بات پر قسم اٹھا لیں۔

کہ وہ یہاں سے ایک قدم بھی نہیں لے گا جب تک کے آسمان زمین پر نہ آرہے اور سارے زمین والے تباہ نہ ہو جائیں تب بھی اللہ تعالیٰ اس کی قسم سے نہیں دے گا اور اس کے دل کی بات کو پورا کر دے گا۔