ایک دفعہ حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ

ایک دفعہ حضور اکر مﷺ کی بارگاہ میں قبیلہ قریش کا ایک نوجوان حاضر ہوا۔ اس وقت صحابہ کرام سراپا ادب بنے ہوئے آقائے دوجہاں ؑ کی مجلس میں بزم آراء تھے۔ وہ نوجوان جو عنفوان شباب کے عالم میں تھا یوں عرض گزار ہوا: یا رسول اللہ! میں آپ کا ہر حکم مانو ں گا۔ مگر آپ مجھے ایک گ۔ناہ کی اجازت دے دیں،

کیوں کہ میں یہ گ۔ناہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا !۔ پیارے آقا رحمت ﷺ نے پوچھا کہ جوان یہ تو بتا وہ کون سا گ۔نا ہ ہے؟ تو وہ کہنے لگا حضور ! مجھے بدکاری کی اجازت دے دیں اس لیے کہ اسے چھوڑنا میرے بس کی بات نہیں ۔

اس موقع پر کوئی زاہد خشک اور مبلغ محض ہوتاتو درشتی کلام کے اس انداز سے نہ جانے اس کے ساتھ کیا سلوک کرتا، اسے جھڑک دیتا کہ ظالم ! تو نے یہ کیا بات کہہ دی۔ عین ممکن تھا کہ طیش میں آکر وہ اسے اپنی مجلس ہی نکا ل دیتا، لیکن مصلح اعظم اور طبیب امراض روحانی ۔ حضور اکرم ﷺ کی جبین مبارک پر ذرہ برابر بھی شکن نہ آئی۔

صحابہ کر ام رضی اللہ عہنم حیران و سراسیمہ ہو کر یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے۔ حضوراکرمﷺ نے اس قریشی نوجوان کو اپنے قریب کر لیا اور بڑی شفقت سے نرم لہجے میں پوچھا۔ اے بیٹے ! ذرا یہ بتا جس جرم کی تونے مجھ سے اجازت مانگی ہے کس سے کرنے کاارادہ ہے؟ کیا تو ایسا اپنی ماں سے کرےگا؟ اس نے عرض کیا: یارسول اللہ ہرگز نہیں ، کیاکوئی اپنی ماں سے بھی ایسا ارادہ کر سکتا ہے۔

آپ نے فرمایا: ہاں! تم نے سچ کہا۔ کیاتو ایسا اپنی بیٹی کے ساتھ کرے گا؟ اس نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا اپنی بیٹی سے ایسا تصور کیا جاسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا تم نے بالکل ٹھیک بات کہی۔ تو پھر کیااپنی بہن سے ایسا ارادہ ہے؟ اس نے عرض کیا: نہیں ، کیا کوئی اپنی بہن سے یہ حرکت کرسکتا ہے؟

حضور نبی کریم ﷺ سے فرمایا کہ ہاں ! تو نے سچ کہا۔ پھر آپ نے چچی، پھوپھی ، خالہ اور جتنے محرم رشتے ہوسکتے تھے سب گ۔نو ائے اور وہ ہر ایک کے بارے میں انکار کرتارہا۔

حضور اقدس ﷺ نے اس طرح نفسیاتی طور پر اس کو یہ بات یقین کرا دی کہ تو جس خاتون سےبھی بدکاری کا ارتکاب کرے گا وہ کسی نہ کسی کی ماں، بہن اور پھوپھی خالہ وغیرہ ہوگی اور اگر تجھے اس کا م کی اجازت دے دی جائے ۔ تو پھر تیری سگی ماں اور بہن بھی نہیں بچ سکیں گی ۔

اصل نکتہ جو حضور اکرم ﷺ نے اس نوجوان کو سمجھانا چاہتے تھے وہ اس کے دل میں اتر گیا۔ پھر حدیث پاک میں آگے بیان ہوا کہ آپ نے اپنا دست شفقت اس کے کندھے پر رکھ دیا۔ کتنا خوش نصیب تھا وہ نوجوان کہ جو گ۔ناہ کی اجازت مانگنے آیا تھا، مگر آقا و مولا کے کر م کا ہاتھ اس کے سر پر پڑ گیا۔

آپ نے اس کے حق میں دعافرمائی کہ بہرحال اس نوجوان کے گزشتہ گ۔نا ہ معاف فرمادے اور اس سے آئندہ گ۔ناہ کرنے کی توفیق چھین لے ۔ حدیث کے راوی صحابی بیان کرتے ہیں کہ پھر زندگی بھر کےلیے اس کی ماہیت قلب اس طرح تبدیل ہوئی کہ مرتے دم تک کسی کی طرف غلط نظر اٹھی ہی نہیں۔

Leave a Comment