جنگِ خندق کے دوران حضور ﷺ مدینہ تشریف لے گئے

جس وقت جنگِ خندق تما م ہو گئی پیغمبر اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے گئے ظہر کے وقت جناب جبر ئیل امین نازل ہوئے اور خداوند عالم کی طرف سے بنی قریظہ کے یہو دیوں کے ساتھ جنگ کرنے کا پیغام سنا یا اور مسلمانوں کو حکم دیا ہمیں نماز عصر بنی قریظہ نامی علاقہ میں پڑ ھنا ہے

آنحضرت ﷺ کا حکم نافذ ہوا اسلامی فوج نے بنی قریظہ کا محاصرہ کر لیا جب محاصرہ کے مدت طو لانی ہوئی تو یہو دیوں پر زندگی سخت ہو گئی لہٰذا انھوں نے رسول اکرم ﷺ کے پاس پیغام بھجوایا کہ ابو لبابہ کو ہمارے پاس بھیج دیں تا کہ اپنی حالت کے بارے میں اس سے مشورہ کر یں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابو لبابہ سے فر ما یا اپنے ہم پیما نوں کے پاس جا ؤ اور دیکھو وہ کیا کہتے ہیں۔

جس وقت ابو لبابہ یہودیوں کے قلعہ میں پہنچے تو یہو دیوں نے اس سے سوال کیا ہمارے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ کیا ہم ان تمام شرائط کو مانتے ہوئے پیغمبر کے سامنے تسلیم ہو جائیں تا کہ وہ جو کچھ ہمارے ساتھ کر نا چاہیں کر سکیں انہوں نے جواب دیا: ہاں تم لوگ تسلیم ہو جاؤ اور اس جواب کے ساتھ ابو لبابہ نے اپنے ہاتھوں سے گلے کی طر ف اشارہ کیا یعنی تسلیم ہونے کی صورت میں فوراً قتل کر دئیے جاؤ گے لیکن فوراً ہی اپنے کئے سے پشیمان ہو ئے اور ایک فر یاد بلند کی آہ میں نے خدا و رسول کے ساتھ خیا نت کر ڈالی کیو نکہ مجھے یہ حق نہیں تھا۔

کہ پوشیدہ راز کو بیان کروَ قلعہ سے باہر آئے اور سیدھے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے مسجد میں داخل ہو ئے رسی سے اپنی گردن کو ایک ستون سے باندھ لیا جس ستون کو بعد میں ستون توبہ کا نام دیا گیا اور کہا میں اپنے کو نہیں کھو لوں گا یہاں تک کہ میری توبہ قبول ہو جائے یا میری موت آجائے پیغمبر اکرم ﷺ کی تاخیر کی وجہ سے پریشان ہوئے اور ان کے بارے میں سوال کیا تو اصحاب نے ابو لبابہ کا واقعہ بیان کیا

اس وقت آنحضرت نے فر ما یا اگر میرے پاس آتا تو میں خدا سے اس کے لیے طلب مغفرت کر تا لیکن جب وہ خدا کی طرف گیا تو خدا وند عالم اس کی نسبت زیادہ حقدار ہے جیسے بھی اس کے بارے میں فیصلہ کر ے ابو لبابہ جتنے دن بھی وہاں بندھے رہے دن میں روزہ رکھتے تھے۔

اور رات کو معمولی کھا نا کھاتے تھے رات کے وقت ان کی بیٹی کھا نا لاتی تھی اور وضو کی ضرورت کے وقت اس کو کھول دیتی تھی یہاں تک کہ جناب ام سلمہ کے گھر ایک شب میں ابو لبابہ کی توبہ قبول ہونے کے سلسلہ میں آیت نازل ہوئی: اور دوسرے وہ لوگ جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا کہ انھوں نے نیک اور بد اعمال مخلوط کر دیے ہیں عنقریب خدا ان کی توبہ قبول کر لے گا کہ وہ بڑا بخشنے والا مہر بان ہے۔

پیغمبر اکرم ﷺ نے ام سلمہ سے فر ما یا: ابولبابہ کی توبہ قبول ہو گئی۔