نبی کریم ﷺ کا فر مان اس سورۃ کو مصیبت و پریشانی

ایک ایسی سورۃ انشاء اللہ جو کہ حدیث میں بھی بیان ہوا ہے کہ جو اس سورۃ کو پڑھے گا اور اگر اس سورۃ کو مصیبت کی حالت میں پڑھے گا تو انشاء اللہ اس کی مصیبت انشاء اللہ ٹل جائے گی اور سب سے اہم بات یہاں پر میں آپ کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ ہر کوئی انسان اپنی مشکلات سے باز رہنا چاہتا ہے

باز رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ ہر قسم کی پریشانی سے دور رہے ہر قسم کی پریشانی اس سے دور ہو جائے تو اسی مقصد کے لیے وہ طرح طرح کے وظائف کر تا ہے تاکہ وہ جو اس کو مشکل در پیش ہوئی ہوئی ہے۔

وہ دور ہو جائےا ور وہ پر سکون ہو جائے اور اس کی زندگی پر سکون ہو جائےا ور طرح طرح کی مشکلات سے پاک ہو جائے۔ توآج میں انہیں لوگوں کے لیے کچھ ایسا ہی وظیفہ لے کر آئی ہوں کہ جس کے کرنے سے وہ طرح طرح کی تمام قسم کی مشکلات سے دور ہو جائیں گے او ر وہ ا پنی زندگی پر سکون بنا دے گا۔

آج کل کے معاشرے میں ہم جانتے ہی ہیں کہ ہر کوئی طرح طرح کی پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے کسی کو جاب کی پریشانی ہے کسی کو گھر کی پریشانی ہے کسی کو باہر کاروبار کی پریشانی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کسی کو باہر کی پریشانی ہونے کے ساتھ ساتھ گھر میں جو بیٹیاں بچیاں بیٹھی ہوئی ہیں۔

ان کی پریشانی ہے کہ انکے کوئی اچھے رشتے نہیں آرہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی مسئلہ مسائل درپیش ہیں کہ شادی شدہ جوڑوں میں تلخ کلامی بھی ہے اور شادی تو ہو چکی ہے مگر اولاد نہیں ہے ۔ تو ان تمام مشکلات سے بچنے کے لیے یہ وظیفہ بہت ہی مجرب ہے اور بہت ہی اہم ہے۔

اس وظیفہ کو شروع کر نے سے پہلے ایک بات میں یہاں ضرور کہنا چاہوں گی کہ میرے اس وظیفے کو بہت ہی غور سے سنیے گا تا کہ اس وظیفے پر عمل کر سکیں اور اس وظیفے سے بہت سا فائدہ اٹھا سکیں۔ نبی کریم ﷺ کا فر مان اس سورۃ کو مصیبت و پریشانی میں پڑ ھے تو مصیبت ٹل جائے دنیا و آخرت میں خوش رہے۔

، فقر و تنگدستی دور ہو جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ مشکل میں پڑھے گا تو اس کی مشکل حل ہو جائے گی اس کی مشکل آسان ہو جائے گی۔ اور جس مقصد کے لیے بھی اس وظیفے کو کرے گا وہ مقصد انشاء اللہ ضرور پورا ہو جائے گا اور اپنے مقصد میں انشاء اللہ کامیابی حاصل کر سکے گا۔

کیونکہ ہر انسان ہی یہی چاہتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائے۔