سورۃ النور کی کرامات !جائے نما ز پر ہی بڑی سے بڑی حاجت پوری ہوگی۔

اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہو، چراغ ایک فانوس میں ہو۔ فانوس جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا، اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی، جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑک پڑتا ہو چاہے آگ اس کو نہ لگے، روشنی پر روشنی اللہ تعالیٰ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرماتا ہے،

وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے، وہ ہر چیز سے خوب واقف ہے۔سورۃ النور کی فضیلت اور خصوصیات: امام جعفر علی صادق فرماتے ہیں کہ۔ تم اپنے مال اور اپنی آبرو کی حفاظت سورۃ النور کی تلاوت کے ذریعے سے کرو۔ اور اس سورۃ کے ذریعے سے اپنی عورتوں کو پاک دامن بنا لو۔ ۔جو اس سورۃ کو ہر روز پابندی کے ساتھ پڑھے گا۔

یا ہر شب میں پابندی کے ساتھ پڑھتا رہے گا۔ تو وہ خود اور اس کے گھر والے میں مرتے دم تک کوئی برائی اور شر نہیں دیکھے گے۔ اور مرنے کے بعد ستر ہزار فرشتے اس کے جنازے کے پیچھے چلیں گے۔ وہ سب کے سب اس کے لیے دعا اور اللہ پاک اس کے لیے مغفرت کی دعا کریں گے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی قبر میں چلا جائے گا ۔

رسول اکرم ﷺ سے روایت کی جاتی ہے کہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو بھی اس سورۃ کو پڑھے گا تو ہر مومن ،مومنہ کی تعداد کے لحاظ سے دس نیکیاں ملیں گی۔ اور فرمایا کہ جو بھی اس سورۃ کو لکھ کر اپنے بستر پر رکھ دے۔ جہاں وہ سوتا ہے تو وہاں کبھی بھی احتلام نہیں ہو گا۔اگر اس سورۃ کو لکھ کر آب زمزم میں پیئے گا۔ تو وہ جمع پر قدرت نہیں رکھے گا۔ اور اس کے اعلیٰ تناسب میں حرکت پیدا نہیں ہوگی ۔

امام جعفر صادق نے فرمایا کہ جو بھی اس سورۃ کو لکھ کر اپنی چادر میں رکھ لے۔ یا سونے والے بستر میں رکھ لے ،کبھی احتلام نا ہو گا ۔جو بھی اس کو پیتل کے چشش میں لکھ کر جانور کو پلا دے یا اس پر چھڑک دے تو وہ بیمار جانور ٹھیک ہو جائےگا۔قدار میں اگر توازن نہ ہو تو دوا فائدہ پہنچاتی ہے اس سے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔

وظیفہ میں چونکہ روشنیوں کا عمل دخل ہوتا ہے اور روشنیاں مقداروں پر قائم ہیں۔ مقدار میں توازن ضروری ہے آتش بازی کا تعلق بھی مقداروں سے ہے۔ ایک قسم کا توازن پھلجڑی کی صورت میں نمایاں ہوتا ہے

اور دوسری قسم کا توازن جسے ہم ایٹم بم کہتے ہیں اس کا مظاہرہ ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔یہ سمجھے بغیر کہ انسان میں روشنیاں قبول کرنے کی کتنی صلاحیت ہے۔ اس کے لئے کوئی عمل یا وظیفہ تجویز کر دیا جائے تو یہ عمل نقصان کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔غور فرمایئے! ذہن انسانی پر اگر اتنا وزن ڈال دیا جائے کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں متاثر ہو جائیں، ایسی حالت میں وسائل کے حصول میں جتنی بھی کوششیں ہوں گی اس کا نتیجہ برعکس ہو گا۔

اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ قانون کے تحت ہر وظیفہ میں الگ الگ مخصوص قسم کی لہریں کام کرتی ہیں اور یہ لہریں انسانی ذہن میں ایسے تاثرات قائم کرتی ہیں جو وسائل کے حصول اور بیماریوں سے نجات دلاتے ہیں۔ لیکن اگر اس میں عدم توازن پیدا ہو جائے تو صورتحال بدل جاتی ہے۔مسلسل اور بہت سارے وظائف پڑھنے سے ذہن میں روشنیوں کا ذخیرہ ہو جاتا ہے اور اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وسائل اور صحت کے حصول میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

میں جب کسی سائل کے لئے وظیفہ یا کوئی عمل تجویز کرتا ہوں تو دیہ دیکھتا ہوں کہ وظیفے کے الفاظ میں روشنی کی کتنی مقدار کام کر رہی ہے اور مریض میں ان کو برداشت کرنے کی کتنی صلاحیت ہے۔ فقیر اپنی تحریر میں اس بات کو ہمیشہ اولیت دیتا ہے کہ قانون قدرت سے علاج اور مشورہ ہم رشتہ ہو۔اللہ تعالیٰ کے کلام کا سہارا لینا ہمارا دین ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ ہم بغیر جانے بوجھے معاشی وسائل کے حصول اور بیماریوں سے نجات پانے کے لئے جو چاہیں پڑھتے رہیں۔ ہمارے لئے یہی صراط مستقیم ہے کہ ہم اپنی زندگی قانون فطرت کے مطابق بسر کریں۔ ارکان اسلام کو پورا کریں اور دماغی صلاحیتوں کے مطابق ہاتھ پیروں کے عمل کے ساتھ ساتھ قادر مطلق اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین