نبی ﷺ نے قسم اٹھا کر کہا ایسا شخص جہنم میں جائے گا۔

اللہ کے رسول ﷺ نے قسم اٹھائی اللہ کی قسم جس کو اللہ نے اپنا پیارا بنا لیا اس کو جہنم میں نہیں ڈالیں گے اللہ کی قسم جس کو اللہ محبوب بنا لیں اس کو جہنم میں نہیں پھینکیں گے محبتوں کے زاویئے درست کرو نفرتوں کے زاویئے درست کرو ایک آدمی دوسرے بھائی کی زیارت کرنے گیا کسی بستی میں اللہ نے فرشتہ بھیجا فرشتہ سائل بن کر سوال کرتا ہے کہاں جارہے ہو

اپنے بھائی کو ملنے جارہا ہوں یہ اس بستی میں جارہا ہوں آج میری گاڑی کا رخ بستی کی طرف نہیں ہوتا کہ پنکچر ہوجائے گا ارے روڈ ٹوٹاہوا ہے دیکھئے محبت موٹر وے پر جانا ہوتو چلو آرام سے جائیں اور واپس آجائیں جس کو گاڑی کے ٹائروں کا خطرہ ہو محبت خاک کرے گااللہ کی رضا کے لئے سائل نے پوچھا کچھ لینا دینا ہے

صرف اللہ کے لئے محبت ہے کچھ لینا دینا نہیں ہے سائل مخبر بن گیا خبر دیتے ہوئے فرشتہ کہتا ہے خوش ہوجاؤ میں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا فرشتہ ہوں اور یہ خوش خبری سنانے آیا ہوں کہ جس طرح تم اس سے اللہ کے لئے محبت کرتے ہو تیرا رب تیرے ساتھ محبت کرتا ہے ۔مذکورہ حدیث پاک میں مسلمانوں کی ایک دوسرے سے محبت کو کمال ایمان کی نشانی بیان فرمایا گیا ہے ۔

واقعی کامل مؤمن اپنے مسلمان بھائیوں سے محبت کرنے والا ہوتاہے ، کیونکہ اسلام نے مسلمانوں کو الفت ومحبت کا درس دیا ہے ، اسلام میں کسی بھی مسلمان سے ، اس کی آل اولاد ، اس کے رشتہ داروں ، دوستوں یا دیگر متعلقین سے بلاوجہ شرعی نفرت کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے ۔

مسلمانوں کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت ہی اُن کے درمیان بھائی چارے کو فروغ کا سبب ہے ، باہمی الفت ومحبت بڑی بڑی معاشرتی اچھائیوں کو فروغ دینے اور بڑے بڑے گناہوں کے خاتمے میں ایک بہترین معاون کا کردار ادا کرتی ہے ۔

جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں توہ ایک دوسرے کی غیبت ، چغلی ، بہتان ، تہمت ، بغض اور حسد جیسی بیماریوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں ، جبکہ آپس میں نفرت اور دشمنی ان سب باطنی بیماریوں کو پیدا کرتی اور پھیلاتی ہے ۔ الغرض مؤمن کامل کی صفت الفت ومحبت ہے ، بغض ونفرت نہیں ۔ دیگر احادیث مبارکہ میں بھی مؤمن کی اس صفت محبت کو بیان فرمایا گیا ہے ۔

چنانچہ فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : مؤمن محبت کرتا ہے اور اس سے محبت کی جاتی ہے اور جو شخص نہ خود محبت کرے اور نہ اس سے محبت کی جائے تو اس میں کوئی بھلائی نہیں۔ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! اگر میں دن میں روزہ رکھوں اور افطار نہ کروں ، رات بھر بغیر سوئے قیام کروں اور وقفے وقفے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں مال خرچ کرتا رہوں

لیکن جس دن مروں اس دن میرے دل میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کی محبت اور اس کے نافرمانوں سے عداوت نہ ہوتو یہ تمام چیزیں مجھے کچھ نفع نہ دیں گی۔ حضرت سَیِّدُنَا ابن سماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے وفات کے وقت فرمایا : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! تو جانتا ہے اگرچہ میں تیری نافرمانی کیا کرتا تھا

لیکن تیرے فرمانبرداروں سے محبت بھی کرتا تھا ، میرے اسی عمل کے سبب مجھے اپنا قُرب عطا فرما دے ۔ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص رکن اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان کھڑے ہو کر ستر70سال عبادت کرے پھر بھی قیامت کے دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اسی کے ساتھ اٹھائے گا جس سے وہ محبت کرتا ہوگا ۔

حضرت سَیِّدُنَا مجاہد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے جب ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ہیں تو ان کی خطائیں ایسی مٹتی ہیں جیسے سردیوں میں درختوں کے خشک پتے جھڑ جاتے ہیں ۔

حضرت سَیِّدُنَا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : انسان کا محبت ومہربانی کے ساتھ اپنے مسلمان بھائی کے چہرے کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے ۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment