وہ (دعا) جو کبھی بھی رد نہیں ہوتی!! اس طرح سے دعا مانگو اللہ کبھی بھی رد نہیں کرے گا!!! امام علیؑ نے فرمایا۔۔۔!!!

امام علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یاعلی علیہ السلام ! میری دعا قبول نہیں ہوتی ۔ میں کس طرح سے دعا مانگوتو امام علیہ السلام نے فرمایااے شخص! تم جب بھی دعا مانگو۔تو اپنی دعامانگنے سے پہلے کسی دوسرے کےلیے دعا مانگو۔ اس کے بعداللہ پاک کے دربارمیں اپنی دعا پیش کرو۔

اللہ پاک اس کو قبول کرے گا۔ اس نے کہایاعلی کیااس سے افضل کوئی اور طریقہ ہے۔ جس سے دعا مانگی جائے۔ اوروہ عورت نہ ہو۔ تو امام علی علیہ السلام نے فرمایا:ہاں! اللہ پاک کی سب سے بہترین خلقت اور اس کا محبوب حضرت محمدﷺ اوراس کی آل محمدﷺ۔ تو اپنی دعا سے پہلے اپنے اللہ کے محبو ب کی دعا مانگو۔

کہ اے اللہ !! تو اپنے محبوب ﷺ پر رحمت نازل فرما۔ اس کی آل پررحمتیں نازل فرما۔ اور اس کے بعد اپنی دعا مانگو۔ تواللہ پا ک تمہاری دعا کبھی بھی رد نہیں کرے گا۔ اے شخص !یاد رکھنا کہ اللہ پاک کے قانون میں یہ نہیں کہ ایک دو آفنی کو قبول کرے۔

اور پھروہ دوسری دعا کو چھوڑ دے۔جب اللہ پا ک یہ دیکھا گا کہ یہ میرا بندہ میرے محبوب کےلیے دعا مانگ رہا ہے۔ جو قبول شدہ دعا ہے۔ تو وہ فوراًقبول کرلے گا۔ اس کے بعد جب تمہاری حقیر دعا جب پروردگار عالم کے دربار میں پہنچے گی۔ تو اللہ پاک رحمان ورحیم ہے۔ وہ دعا بھی قبول کرلےگا۔ وہ لوگ جو اللہ پاک سے کسی کو حاصل کرنے کی تڑپ تو لگاتے ہیں۔

وہ ذکر و افکا ربھی کرتے ہیں۔ قرآن پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں۔ وہ رو رو کر گڑ گڑا کر اللہ سے اپنی محبت مانگتے ہیں۔ لیکن ان کی دعاقبول نہیں ہوتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کے بارے میں امام علی نے ارشاد فرمایا:ایک مرتبہ ایک شخص آیا، ان کا بھی کچھ یہی سوا ل تھا۔ اور اس شخص نے پوچھا ، یا علی ! ایسا کیوں ہوتا ہے۔

جب ہم کسی کوپانےکی اللہ سے آرزو کرتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں، ذکر و افکا ر مانگتے ہیں۔ لیکن ہمیں ہماری محبت نہیں ملتی۔ ہماری دعا قبول نہیں ہوتی۔ بس اس شخص کا کہنا تھا تو امام علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسی حالت میں جب انسان اللہ پا ک سے رو رو کر دعا مانگتا ہے ۔

وہ روتا ہے تو اللہ پا ک اس کے دل میں اپنی یاد کی وجہ سے اس انسان کی آرزو کو پورا نہیں فرماتا۔ تاکہ وہ انسان اللہ پاک کے قریب ہوجائے۔ وہ انسان اللہ پاک سے جتنا بھی رو کر دعا مانگتا ہے اللہ پاک کو اس پر اتنا ہی پیار آتا ہے۔ تو پھر اس انسان کے دل میں ایک وقت ایسا آتا ہے۔ اللہ اس کے دل میں اپنی یا د ڈال دیتا ہے۔

پھروہ زمانہ آجاتا ہے وہ انسان چیخ چیخ کر روتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ اے دنیا کے ساتھیوں تم چاہوں تو مجھ سے کچھ بھی چھین لولیکن ایک چیز ایسی جس کو تم مجھ سے چھین نہیں پاؤ گے۔ وہ اللہ پاک کی یا د ہے وہ بھی رسول کریم ﷺ کی یا د ہے۔ جو تم مجھ سے کبھی چھین نہیں پاؤ گے۔