خاص عمل دولت کی بارش

سورہ واقعہ کے بارے میں حضور پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو آدمی سورہ واقعہ پڑھے گا رات کو مغرب اور عشاء کے درمیانی یا کسی اور وقت بھی اس کو بھی کبھی غریبی نہیں آئے گی یہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے لیکن تم جب سورۃ الواقعہ پڑھو تو اس نیت سے نہ پڑھو کہ پیسے ملیں گے تو اس کو اس لئے پڑھو کہ اللہ کا قرآن ہے

اللہ ہمیں اس کی برکات و ثمرات نصیب فرمائے اس ضمن میں ایک برکت یہ بھی ہے کہ فاقہ نہیں ہوگا حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کے آخری وقت میں جب آپ بیمار تھے تو امیر المومنین خلیفہ رسول اللہ ﷺ ذوالنورین عثمان بن عفان تشریف لائے ان کی عیادت کے لئے ان دنوں میں تھوڑا سا حضرت عبداللہ ان سے کچھ ناراض بھی تھے آپس میں بھائی تھے

جب بھائی پیارے ہوں تو ناراضگی بھی ہوجاتی ہے انہوں نے سلام کیا اور پوچھا کہ تمہیں کیا تکلیف ہے تو حضرت عبداللہ ؓ نے جواب دیا کہ مجھے اپنے گناہوں کی تکلیف ہے اللہ اکبر دیکھئے جلیل القدر صحابی ہیں اور وہ گناہوں سے ڈر رہے ہیں ہم گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ہمیں کوئی حیا ہے نہ شرم ہے نہ توبہ ہے نہ خیال ہے تو انہوں نے کہا اچھا یہ بتاؤ تم کیا چاہتے ہو ؟

کیا خواہش ہے تمہاری؟فرمایا اللہ اپنی رحمت کردے آپ نے فرمایا اچھا ایسا کرو میں ایک بڑا طبیب شاہی طبیب کو بھیج دوں آپ کی طرف فرمایا طبیب نے مجھے دیکھا ہے تو حضرت عثمان ؓ نے فرمایا تو پھر طبیب نے جب دیکھا ہے تو کیا کہا ہے کہ انہوں نے کہا کہ طبیب نے کہا ہے کہ فعال لما یرید میں جو چاہوں کروں مراد یہ تھی کہ مجھے اللہ نے دیکھا ہے اللہ جو چاہے کرے

انہوں نے کہا کہ اچھا میں بیت المال میں اللہ کا شکر ہے بہت پیسہ ہے میں تمہارے لئے کچھ پیسے بھیج دوں تو حضرت عبداللہ ؓ مسکرائے فرمایا عثمان جب میں صحت مند تھاتندرست تھا

اس وقت تم نے بھیجے نہیں اب موت کے وقت بھیج رہے ہو انہوں نے کہا اللہ کے بندے چلو تمہاری لڑکیاں ہیں بیٹیاں ہیں کوئی کمائی والا بھی نہیں ہے ان کے کام آجائیں گے انہوں نے فرمایا میں نے اپنی بیٹیوں کو سورۃ الواقعہ یاد کرادی ہے ان کو تمہارے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے تو سورۃ الواقعہ کی ایک برکت تو ہے ہی ہے لیکن تم اسے اس نیت سےنہ کرو

یہی وجہ ہے کہ ہمارے وظائف سے فائدہ نہیں ہوتا ہم اس لئے پڑھتے ہیں کہ پیسے ملیں اور یہی لوگوں نے بنا رکھا ہے کہ فلاں بزرگ کے پاس عمل تسخیر تھا وہ اپنے سرانے کے نیچے سے جتنے پیسے ضرورت ہوتے تھے اٹھا لیتے تھے یہ ساری باتیں غلط ہیں اور جھوٹ ہیں اچھا اسی طرح کہتے ہیں کہ فلاں بزرگ نے جنات کو تابع کیا ہوا تھا ان کو جو حکم دیتے تھے وہ جنات لے آتے تھے

یہ شریعت میں ناجائز ہے کہ ایک غیر مخلوق کو بغیر اس کے کسی جرم کے غلام بنا کر کام دیاجائے یہ تو حرام ہے ناجائز ہے اور وہ جو کچھ بھی لے کر آئے گا وہ بھی حرام ہے ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین