ایک صحابی اپنی بیوی کی کسی بات کی وجہ سے بڑے نالاں تھے۔ وہ صحابی سوچنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک صحابی اپنی بیوی کی کسی بات کی وجہ سے بڑے نالاں تھے۔ وہ صحابی سوچنے لگے کہ کوئی ایسا طریقہ ہو کہ اپنی بیوی کو سبق سکھایا جائے۔سوچا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلتا ہوں۔ وہ ذرا جلالی طبیعت کے ہیں، ان سے جا کر میں بات کرتا ہوں کہ وہ ذرا میری بیوی کی طبیعت سیٹ کرنے کا کوئی طریقہ بتائیں گے۔

چنانچہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ جب وہاں گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ان سے پردے میں بات کر رہی ہیں۔مگر بات کرتے ہوئے ان کا لہجہ اونچا ہے اور وہ تیزی سے بات کر رہی ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ذرا تسلی کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کی بات کو سن رہے ہیں۔

جب اُن صحابی نے دیکھا کہ میں تو اس مقصد کے حل کے لئے یہاں آیا تھا ۔ یہاں تو پہلے ہی آگے سے باتیں سنی جا رہی ہیں۔وہ واپس آنے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ بھئی واپس کیوں جا رہے ہو…؟

عرض کیا…!اے امیر المومنین…!جس کام کے لئے آیا تھا وہی کام یہاں ہوتے دیکھا تو میں نے سوچا میں واپس ہی جاؤں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بلایا اور کہا کہ دیکھو کہ یہ میری بیوی بھی ہے کہ میری ہر ضرورت کو پورا کرتی ہے، میرے لیے باعث سکون ہے اور میرے لئے باورچن بھی ہے،

گھر میں سارا دن میرے لئے کھانے دانے پکانے میں لگی رہتی ہے،میرے لئے دھوبن بھی ہے، میرے کپڑوں کو بھی صاف کرتی ہے، میرے گھر کی صفائی کرنے والی بھی ہے۔ جب یہ گھر کی باورچن بھی بن جاتی ہے،

دھوبن بھی بن جاتی ہے، اتنے قربانیاں میرے لئے دے رہی ہے تو کیا اس کی بات میں تحمل مزاجی سے سن نہیں سکتا۔وہ صحابی کہنے لگے آپؓ نے میرے دل کی گرہ کھول دی۔

جب میری بیوی میری خاطر اتنی قربانیاں دے رہی ہے تو میں بھی اس کی بات کو تحمل مزاجی سے سننے کی عادت ڈالوں گا۔سبحان اللہ۔ مردوں کے ہاتھ قابو میں نہیں ہوتے عورتوں کی زبان قابو میں نہیں ہوتی۔اور یہی چیز جھگڑے کا سبب بنتی ہے۔

کبھی کبھی عورتیں کچھ زبان تیز ہونے کی وجہ سے جلی کٹی سنا بیٹھتی ہیں کہ خاوند کو بڑا غصہ آتا ہے اور بات کا پتنگڑ بن جاتا ہے۔لیکن عورتوں کے ساتھ تحمل مزاجی اور پیار سے پیش آنے سے معاملات با آسانی حل ہو جاتے ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین