بچہ ہونے کے بعد عورت کو جو خ ون آتا ہے

ولادت کے بعد عورت کے رحم سےجو ب لڈ نکلتا ہے اسے نفاس کہتے ہیں نفاس کے ب لڈ کی مدت طے نہیں ہے جب بھی ختم ہوجائے اس کے بعد عورت پاک ہوجاتی ہے نمازیں شروع کرسکتی ہیں بہت سی مکمل چالیس دن تک انتظار کرتی ہیں کہ ان کے گھر کا طریقہ ہوتا ہے کہ نفاس آئے تو چالیس دن حیض آئے تو سات دن نو جو طریقہ ہوتا ہے ۔

شریعت میں جب تک ب لڈ جاری رہے تب تک اگر نفاس ختم ہوگیا تو اپنے کام کاج میں لگ جائے نمازیں پڑھ سکتی ہیں ۔ بہت بارہوتا ہے کہ عورت کو نفاس نہیں آتا بہر حال اس کی مدت نہیں ہے جو حدیث بتائی جاتی ہے کہ آپ سے پوچھا گیا کہ نفاس کتنے رہے تو آپ نے کہا زیادہ سے زیادہ چالیس دن ہے پھرپاک ہوجائے وہ روایت ضعیف ہے ۔

بعض عورتوں کا کہنا ہے کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد عورت چالیس دن تک ناپاک ہوتی ہے اور اس دوران جس بستر ،گدا ،تکیہ ،رضائی ،کمبل ،کپڑا ،برتن اور کمرہ وغیرہ کو وہ استعمال کرتی ہے وہ سب ناپاک ہوجاتا ہے ان کا دوبارہ استعمال کرنا بہت بڑا گناہ ہے نیز یہ کہ جس کمرہ میں قرآن شریف رکھی ہو یا جس کمرہ میں نماز پڑھی جاتی ہو

وہ عورت اس کمرہ میں داخل نہیں ہوسکتی ہے میں جاننا چاہتی ہوں کہ اوپر بیان کی گئی باتیں کہاں تک درست ہیں اور ان چیزوں سے متعلق شریعت میں کیا احکام ہیں میری رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں یہ سب باتیں جو آ پ کے یہاں بعض عورتیں بتاتی ہیں غلط ہیں البتہ بچہ کی پیدائش پر جو خون آتا ہے وہ نفاس ہے اس کی انتہائی مدت چالیس دن ہے ۔

یعنی اگر چالیس دن تک خون آتا رہا تو وہ نفاس ہ ےاگر چالیس دن سے پہلے بند ہوگیا تو نفاس ختم ہوگیا۔نفاس کا حکم یہ ہے کہ اس میں نماز ادا نہ کی جائیگی نہ ہی قرآن کریم کی تلاوت اس میں جائز ہے اور جب نفاس ختم ہوجائے خواہ چالیس دن میں یا اس سے کم میں تو غسل کرکے نماز شروع کردینا فرض ہے

اگر بچہ پیدا ہونے کے بعد خون چالیس دن سے زائد آتا رہے تو چالیس دن کے بعد یا عادت کے بعد آنیوالا خون نفاس نہ ہوگا بلکہ استحاضہ ہوگا اور استحاضہ میں نماز معاف نہیں ہے بلکہ چالیس دن ہونے پر غسل کرکے نماز شروع کردے استحاضہ کے اور بھی مسائل ہیں اگر ایسی صورت پیش آئے تو پوری پیش آمدہ حالت لکھ کر معلوم کرلیا جائے

نفاس کا حکم بقدر ضرور ت لکھ دیا اس کے علاوہ جو غلط باتیں آپ کے یہاں عورتوں میں مشہور ہیں وہ واجب الاصلاح ہیں۔