الٹے ہاتھ سے پانی نہ پینا ورنہ !امام علی ؓ نےفرمایا:

امام علی ؓ راستے سے گزررہے تھے دیکھا ایک شخص الٹے ہاتھ سے پانی پی رہا تھا بس امام علی ؑ قریب گئے اورفرمانے لگے اے بندہ خدا یاد رکھنا پانی اللہ کی رحمت اور اللہ کی طرف سے شفاء ہے لیکن جو انسان اپنے سیدھے ہاتھ سلامت ہونے کے باوجود بھی الٹے ہاتھ سے کھانا کھاتا ہے یا پانی پیتا ہے تو وہ انسان جسمانی بیماریوں اور روحانی امراض میں مبتلا ہو کر ذہنی دباؤ کا شکار بن جاتا ہے

کیونکہ الٹے ہاتھ سے کھانا یا پینا شیطانی صفت ہے تووہ کہنے لگا یا علی ؓ وہ کیسے امام علی ؓ نے فرمایا میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا کہ انسان کے سیدھے کندھے پر نیکیوں کو لکھنے والا فرشتہ اورالٹے کندھے پر گناہ کو لکھنے والا فرشتہ ہوتا ہے جب انسان الٹے ہاتھ سے کوئی چیز کھاتا ہے تو انسان کے کئے گئے

بداعمال کا اثراس غذا یا اس پانی پر ہوتا ہے اور جب انسان سیدھے ہاتھ سے کوئی چیز کھاتا ہے یا پانی پیتا ہے تو انسان کی نیکیوں کا اثر اس کھانے والی غذا یا پانی پر رہتا ہے اور یوں سیدھے ہاتھ سے پانی پینے والا یا کھانا کھانے والا اللہ کی رحمت تک پہنچتا ہے

اور الٹے ہاتھ والا ذہنی دباؤ اور روحانی و جسمانی امراض کا شکار ہوتا ہے ۔پانی پیتے وقت الٹے ہاتھ سے گلاس کو پکڑنا اور سیدھے ہاتھ کی پشت گلاس کے نیچے لگا کر پانی درست ہے ؟اگر کوئی عذر ہو تو اس طرح بھی پانی پی سکتے ہیں؛ باقی مستحب طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے گلاس وغیرہ پکڑکر پانی پیا جائے۔

دائیں ہاتھ کیساتھ پینے کا حکم اور بائیں ہاتھ سے نہ پینے کی ممانعت واضح لفظوں میں موجود ہے۔چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ کیساتھ کھائے، اور جب کوئی پیے تو دائیں ہاتھ سے پیے، کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے)

اسی طرح جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بائیں ہاتھ سے مت کھاؤ؛ کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے)ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں:

جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں دائیں ہاتھ کیساتھ کھانے اور پینے دونوں کی ممانعت ہے، اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ کسی کام کا حکم دینا اس کام سے متصادم امور سے ممانعت کو بھی شامل ہوتا ہے، لیکن پھر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں ہاتھ کیساتھ کھانے یا پینے کی خصوصی طور پر ممانعت فرمائی جو کہ دائیں ہاتھ کیساتھ کھانے پر بھر پور تاکید ہے،

چنانچہ اگر کسی شخص نے بائیں ہاتھ سے کھایا یا پیا اور اسے ممانعت کا علم بھی تھا، نیز بائیں ہاتھ سے کھانے کا کوئی عذر بھی نہیں تھا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو یہ بڑی گمراہی کی بات ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین