میں نے اس سورۃ کی برکت سے فرش پر بیٹھ کر عرش کی کرامات دیکھیں ہیں۔

سورہ یٰسین کی مقدار بڑھاؤ بادشاہت اور سلطنت آپ کے سامنے جھکے گی ہر حاجت اور ضرورت جیسے آپ چاہیں گے اللہ پورے کرے گا سورہ یٰسین بڑھا ایک دفعہ پڑھتے ہو دو پڑھو دو دفعہ پڑھتے ہو تین پڑھو حافظ کے لئے اور یاد والے کے لئے کیا مسئلہ ہے ۔مشہور تھا کہ میں ہر ظہر میں سورہ یٰسین پڑھتا ہوں تو میں نے اس کے ساتھ سورہ صفات سورہ زمر سورہ ص حم السجدہ سب یاد کی ہے

تا کہ کبھی یہ کبھی وہ اگرچہ کسی متعین سورت کو کسی وجہ سے پڑھنا جائز ہے تو مجھے بھی سورہ یٰسین کے بڑے خزائن فرش پر بیٹھ کر عرش کے کرامات نظر آئے ہیں تو میں اپنے مستفیدین اور دوستوں کو جو دینی رشتے سے مجھے استاذ مان رہے ہیں کہ آپ ہر حاجت دین و دنیا کے لئے ہر ضرورت و فوائد کے لئے سورہ یٰسین کو اپنا تاج بنائیں سب لوگ اور ایمان کا دل افروز رنگ دے دی گی

وہ اس کو ۔حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول الله صلى الله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ہرچیز کے لیے دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل ( سورت ) یٰس ہے ، اور جس شخص نے ( سورت ) یٰس کی تلاوت کی تو الله تعالی اس کے لیے دس بار قرآن پڑھنے کا ثواب لکهے گا ۔

حضرت عطاء بن ابي رباح ( جلیل القدر تابعی ) سے روایت ہے فرمایا کہ مجهے یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : جس شخص نے دن کے شروع میں سورة یٰس پڑھی تو اس کی حاجات ( دینی دنیوی یا اخروی یا مطلقا تمام ضرورتیں ) پوری کی جائیں گی ۔

حضرت مَعْقِلِ بْنِ يَسَار الْمُزَنِيِّ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبي صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : جس شخص نے الله کی رضاء کے لیئے سورة يسں پڑھی تو اس کے پہلے گناه ( یعنی صغیره ، اور کبیره بهی ان شاء الله ) معاف کر دیئے جاتے ہیں ، پس اس کو اپنے مُردوں کے پاس پڑها کرو۔

حضرت ابي هريرة رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : جس نے کسی رات میں ( سورة ٰيس پڑهی تو وه اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کی بخشش ہوئی ہوگی ، اور جس نے ( سورة ) حم الدُّخَان پڑهی تو وه اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کی بخشش ہوئی ہوگی .

حضرت مَعْقِلِ بِن يَسَار رضی الله عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : اپنے مُردوں ( یعنی قریبُ الموت شخص پر ) پر یٰس پڑها کرو ۔امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے صفوان رحمہ اللہ سے بيان كيا ہے وہ كہتے ہيں مجھے مشائخ نے بيان كيا كہ وہ غضيف بن الحارث الثمالى ( جو كہ صحابى ہيں ) كى موت كے وقت ان كے پاس حاضر ہوئے تو وہ كہنے لگے: كيا تم ميں سے كوئى يٰس كى تلاوت كرتا ہے ؟

تو صالح بن شريح السكونى نے سورۃ يٰس كى تلاوت شروع كى اور جب وہ چاليس آيت كى تلاوت كر چكے تو ان كى روح قبض ہوگئى، راوى كہتے ہيں: تو مشائخ كہا كرتے تھے: جب ميت كے پاس سورۃ يٰس كى تلاوت كى جائے تو اس كى بنا پر اس سے تخفيف ہو جاتى ہے. صفوان رحمہ اللہ كہتے ہيں: اور عيسىٰ بن معتز نے ابن معبد كے پاس سورۃ يٰس كى تلاوت كى تھى . اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین