پچھلے 50 سال سے روزانہ 1 ہی عمل کرتا ہو

یہ تو ہم نے بھی اپنی زندگی میں مشاہدہ کیا بعض بزرگوں کی صحبت میں رہ کر کہ ان کے منہ سے بات نکل جاتی تھی اللہ پوری کردیتے تھے تو انسان کو قرب الٰہی کا ایسا مقام مل جاتا ہے کہ نوافل کے ادا کرنے پر

اور ایک حدیث پاک میں ہے حضرت عقبہ بن عامر ؓ روایت کرتے ہیں کہ جو بندہ دن کے شروع میں چند نوافل ادا کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ پورے دن کے کاموں میں اس کی کفالت فرماتے ہیں دیکھیں کتنی بڑی بات ہے کہ پورے دن کے کاموں میں اللہ اس بندے کی کفالت فرماتے ہیں جو دن کے شروع میں نماز پڑھ لیتا ہے نوافل پڑھ لیتا ہے اللہ اس کے کفیل بن جاتے ہیں اللہ جب کفیل بن جائیں تو پھر کاموں میں مشکل نہیں رہتی

اور ایک حدیث قدسی ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں اے ابن آدم تفرغ لی عبادتی تو میری عبادت کے لئے اپنے آپ کو فارغ کر لے میں تیرے سینے کو غنا سے بھر دوں گا اور میں تیرے فقر تنگدستی کے راستے کو بند کر دوں گا یعنی نہ تجھے تنگدستی آئے گی اور تیرے سینے میں غنا کو ڈال دوں گا تو مستغنی ہوجائے گا سب سے تجھے دوسروں کی حاجت نہیں رہے گی

نوافل کے ادا کرنے پر دنیا کے فائدے بھی کتنے ہیں انسان کے لئے اور اگر تو ایسا نہیں کرے گا یعنی نوافل نہیں پڑھے گا میں تیرے ہاتھوں کو کاموں میں مصروف کردوں گا اور واقعی آج ہاتھ کاموں میں ایسے مصروف ہیں کام ختم نہیں ہوتا دوسرا اوپر سے دوسراختم نہیں ہوتا

تیسرا اوپر سے اسائنمنٹس کے بعد اسائنمنٹ تو اللہ نے اس بندے کے ہاتھوں کو کاموں میں مشغول کردیا اور میں تیرے فقر کے راستے کو بند بھی نہیں کروں گا

چنانچہ کاروبار بھی ہوتا ہے اور پیسے سے ٹائیٹ بھی ہوتے ہیں مصیبت میں پڑے ہوئے ہیں اور مانگنے والے تنگ کررہے ہیں ہونے کے باوجود یہ بندہ پریشان ہوتا ہے اللہ اس کے تنگدستی کے راستے کو بند نہیں کرتے تو نوافل پڑھنے کا یہ کتنا بڑا اجر ہے کہ اللہ بندے کو دل کا غنا عطا فرمادیتے ہیں اور دوسرا فقر کے راستے کو اس کے لئے بند کردیتے ہیں

ان نوافل میں جو سب سے اہم نفل ہیں وہ ہیں جو فقہاء نے فرض نمازوں میں نوافل کہے ہیں جیسے ظہر کی نماز پڑھی تو آپ نے چار رکعت سنت پہلے پڑھی پھر چار رکعت فرض پڑھے پھر دو رکعت سنت پڑھی اور پھر اس کے بعد دو رکعت نفل بھی ہیں تو سب سے پہلا یہ کام کریں کہ نمازوں کو مکمل طور پر پڑھنا شروع کریں وہ جو فرض نمازوں کے نوافل ہیں ان کو چھوڑیں نہیں ان کو ضرور پڑھیں

اسی طرح مگرب کی نماز پڑھی تو تین فرض پڑھے دو سنت پڑھیں پھر اس کے بعد دو رکعت نفل بھی ہیں نوجوان وہ نفل چھوڑ دیتے ہیں وہ نہیں چھوڑنے ان کو باقاعدگی سے پڑھنا شروع کردیں اس پر کوئی زیادہ وقت نہیں لگتا بس عادت کی بات ہوتی ہے

جن کو عادت ہوتی ہے وہ پڑھ لیتے ہیں جن کو عادت نہیں ہوتی وہ چھوڑ دیتے ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین